اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 433
صحاب بدر جلد 2 433 حضرت ابو بکر صدیق 1003<< دیئے ہوئے حکم کو بدلائے میں تو ان سے اس وقت تک لڑوں گاجب تک کہ یہ لوگ پوری طرح زکوۃ نہ دیں اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اونٹ باندھنے کی ایک رسی جو دیتے تھے “ وہ بھی نہ دیں ” وہ بھی ادانہ کر دیں۔اُس وقت صحابہ کو پتہ لگا کہ خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کس قدر جرآت اور دلیری رکھتا ہے آخر حضرت ابو بکر نے اُن کو زیر کیا اور اُن سے زکوۃ لے کر چھوڑی۔حضرت ابو بکر کی مالی قربانی کے بارے میں آتا ہے، ایک مصنف لکھتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق جب ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم کی خطیر رقم موجود تھی اور ظاہر ہے کہ مالِ تجارت، اسباب و املاک اس کے علاوہ تھے۔بلکہ ایک روایت کے مطابق تو ان کے پاس ایک ملین یعنی دس لاکھ درہم کی رقم موجود تھی۔مکہ میں عام مسلمانوں کی اعانت اور غریب مسلمانوں کی کفالت پر ہزار ہا درہم خرچ کر د۔دیے تاہم جب انہوں نے ہجرت کی تو پانچ چھ ہزار درہم نقد ساتھ تھے۔ایک روایت کے مطابق وہ یہ ساری رقم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات کے لیے بچا کر رکھتے گئے اور بوقت ہجرت مدینہ لے کر آئے تھے۔اسی رقم سے انہوں نے ہجرت کے دوران سفر کے اخراجات کے علاوہ بعد ہجرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خاندان میں سے بعض کے سفر کے اخراجات دیے تھے اور مدینہ میں مسلمانوں کے لیے کچھ زمین بھی خریدی تھی۔حضرت ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں کہ جس میں آپ کی وفات ہوئی آپ باہر تشریف لائے اور آپ نے اپنا سر ایک کپڑے سے باندھا ہوا تھا۔آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا لوگوں میں سے کوئی بھی نہیں جو بلحاظ اپنی 1004 جان اور مال کے مجھ پر ابو بکر بن ابو قحافہ سے بڑھ کر نیک سلوک کرنے والا ہو۔1005 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کسی مال نے کبھی وہ فائدہ نہیں پہنچایا جو مجھے ابو بکر کے مال نے فائدہ پہنچایا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر یہ سن کے رو پڑے اور عرض کیا یارسول اللہ ! میں اور میر امال تو صرف آپ ہی کے لیے ہیں اے اللہ کے رسول ! 1006 آج بھی مجھ سے ابو بکر بڑھ گئے۔۔۔۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ایک جہاد کے موقع کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں مجھے خیال آیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے بڑھ جاتے ہیں۔آج میں ان سے بڑھوں گا۔یہ خیال کر کے میں گھر گیا اور اپنے مال میں سے آدھا مال نکال کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے لے آیا۔وہ زمانہ اسلام کے لئے