اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 399
ناب بدر جلد 2 399 حضرت ابو بکر صدیق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی بات کو بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مجلس میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کے ارد گرد صحابہ کرام بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے یہ ذکر کرنا شروع کر دیا کہ جنت میں یوں ہو گا، یوں ہو گا اور پھر ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مقدر فرمائے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے یا رسول اللہ ! دعا کیجئے کہ جنت میں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔( بعض روایتوں میں ایک اور صحابی کا نام آتا ہے اور بعض روایتوں میں حضرت ابو بکر کا نام آتا ہے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں امید کرتاہوں کہ تم میرے ساتھ ہو گے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتاہوں کہ ایسا ہی ہو۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو قدرتی طور پر باقی صحابہ کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ ہمارے لئے بھی یہی دعا کی جائے۔پہلے تو وہ اس خیال میں تھے کہ ہمارے یہ کہاں نصیب ہیں کہ ہم جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں مگر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یا بعض روایتوں کے مطابق کسی اور صحابی نے یہ بات کہہ دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا بھی فرمائی تھی تو اب انہیں نمونہ مل گیا اور انہیں پتہ لگ گیا کہ یہ عمل نا ممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔چنانچہ ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ ! ے لئے بھی دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ جنت میں مجھے آپ کے ساتھ رکھے۔آپ نے فرمایا: خدا تعالیٰ تم پر بھی فضل کرے مگر جس نے پہلے کہا تھا اب تو وہ دعالے گیا۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص فلاں عبادت میں زیادہ حصہ لے گا وہ جنت کے فلاں دروازہ سے گزارا جائے گا اور جو فلاں عبادت میں زیادہ حصہ لے گا وہ فلاں دروازہ سے گزارا جائے گا۔اسی طرح آپ نے مختلف عبادات کا نام لیا اور فرمایا: جنت کے سات دروازوں سے مختلف اعمال حسنہ پر زیادہ زور دینے والے لوگ گزارے جائیں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اس مجلس میں بیٹھے تھے۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مختلف دروازوں سے تو وہ اس لئے گزارے جائیں گے کہ انہوں نے ایک ایک عبادت پر زور دیا ہو گا لیکن یارسول اللہ ! اگر کوئی شخص ساری عبادتوں پر ہی زور دے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔آپ نے فرمایا: وہ جنت کے ساتوں دروازوں سے گزارا جائے گا اور اے ابو بکر میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی انہی میں سے ہو گے۔941 آپ حسب و نسب کے ماہر تھے اور شعری ذوق بھی رکھنے والے تھے۔لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق لوگوں میں سب سے زیادہ اہل عرب کے حسب و نسب کو جاننے والے تھے۔جبیر بن مطعم جو کہ اس فن یعنی علم الانساب میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے انہوں نے کہا میں نے نسب کا علم حضرت ابو بکر سے سیکھا ہے۔خاص طور پر قریش کا حسب و نسب کیونکہ حضرت ابو بکر قریش 940❝