اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 391
ناب بدر جلد 2 391 حضرت ابو بکر صدیق نہیں میرا ہی قصور ہے۔جب حضرت عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکر کو جا کر کسی نے بتایا کہ حضرت عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی شکایت کرنے گئے ہیں۔حضرت ابو بکر کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے بھی اپنی براءت کے لئے جانا چاہئے تاکہ یک طرفہ بات نہ ہو جائے اور میں بھی اپنا نکتہ نظر پیش کر سکوں۔جب حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمر عرض کر رہے تھے کہ یارسول اللہ ! مجھ سے غلطی ہوئی کہ میں نے ابو بکر سے تکرار کی اور ان کا کرتہ مجھ سے پھٹ گیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو غصہ کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔آپ نے فرمایا اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے جب ساری دنیا میرا انکار کرتی تھی اور تم لوگ بھی میرے مخالف تھے اس وقت ابو بکر ہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور ہر رنگ میں اس نے میری مدد کی۔پھر افسردگی کے ساتھ فرمایا کیا اب بھی تم مجھے اور ابو بکر کو نہیں چھوڑتے ؟ آپ یہ فرما ر ہے تھے کہ حضرت ン ابو بکر داخل ہوئے۔“ اس کی انگلی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر جب داخل ہوئے تو انہوں نے کیا رویہ اختیار کیا اس کی تمہید حضرت مصلح موعود باندھ رہے ہیں کہ ”یہ ہوتا ہے سچے عشق کا نمونہ کہ بجائے یہ کہ عذر کرنے کے کہ یارسول اللہ ! میرا قصور نہ تھا عمر کا قصور تھا آپ نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خفگی پید اہو رہی ہے آپ سچے عاشق کی حیثیت سے یہ برداشت نہ کر سکے کہ میری وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو۔آتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! عمر کا قصور نہیں تھا میر ا قصور تھا۔دیکھو حضرت ابو بکر کس قدر سچے عاشق تھے کہ آپ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آپ کے معشوق کے دل کو تکلیف ہو۔آپ یہ دیکھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرہ پر ناراض ہوئے ہیں۔“ حضرت ابو بکر اس پر خوش نہیں ہوئے۔عام طور پر لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے مد مقابل کو جھاڑ پڑتی دیکھتے ہیں ”ڈانٹ پڑتی دیکھے “ تو خوش ہوتے ہیں کہ خوب جھاڑ پڑی لیکن اس سچے عاشق نے یہ پسند نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تکلیف ہو خواہ کسی وجہ سے ہو۔آپ نے کہا میں مجرم بن جاتا ہوں لیکن میں اپنے معشوق کا دل رنجیدہ نہیں ہونے دوں گا اور نہایت لجاجت سے عرض کیا یا رسول اللہ ! عمر کا قصور نہیں تھا میرا قصور ہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”اگر حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے ملال کو دور کرنے کی خاطر مظلوم ہونے کے باوجو د ظالم ہونے کا اقرار کرتے ہیں تا آپ کے دل کو تکلیف نہ پہنچے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے خدا کی خوشنودی کے لئے وہ کام نہ کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی رضا کے قریب کر دے۔“ مومن کی بھی یہی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کام کرے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو۔اس حوالے سے اپنی مثال دی ہے۔913<