اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 383

ناب بدر جلد 2 383 حضرت ابو بکر صدیق 892" لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔891 اس حد تک احتیاط کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دفعہ مسجد میں بعض لوگوں کی آواز سنی کہ ابو بکر کو ہم پر کون سی زیادہ فضیلت حاصل ہے۔جیسے نیکی کے کام وہ کرتے ہیں اسی طرح نیکی کے کام ہم کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا اے لوگو! ابو بکر کو فضیلت نماز اور روزوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نیکی کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔یعنی جو اُن کے دل میں نیکی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت ہے اور اللہ تعالیٰ کا جو خوف ہے اور جو خشیت ہے وہ اس معیار کی ہے کہ تب ان کو تمہارے پہ فضیلت ہے اور اس کے مطابق پھر ان کا عمل بھی ہے۔صرف دل میں نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک آیت قرآنی کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے حضرت ابو بکر کا مقام و مرتبہ یوں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ تو عبادت کرتارہ جب تک کہ مجھے یقین کامل کا مر تبہ حاصل نہ ہو اور تمام حجاب اور ظلماتی پر دے دُور ہو کر یہ سمجھ میں آجاوے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو پہلے تھا بلکہ اب تو نیاملک ، نئی زمین ، نیا آسمان ہے اور میں بھی کوئی نئی مخلوق ہوں۔یہ حیاتِ ثانی وہی ہے جس کو صوفی بقاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔جب انسان اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالی کی روح کا نفخ اس میں ہوتا ہے۔ملائکہ کا اس پر نزول ہوتا ہے۔یہی وہ راز ہے جس پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت فرمایا کہ اگر کوئی چاہے کہ مردہ میت کو زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو وہ ابو بکر کو دیکھے اور ابو بکر کا درجہ اس کے ظاہری اعمال سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے اور جب پڑاؤ کیا تو مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے۔کوئی کسی کے ساتھ کوئی کسی کے ساتھ۔حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر کی رفاقت میں پڑاؤ کیا۔ہمارے ساتھ بادیہ نشینوں میں سے ایک دیہاتی آدمی بھی تھا۔ہم بادیہ نشینوں کے جس گھر میں ٹھہرے ان کی ایک عورت امید سے تھی۔اس بدوی نے اس عورت سے کہا کہ کیا تمہاری خواہش ہے کہ تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہو۔اگر تُو مجھے ایک بکری دے دے تو تمہارے ہاں بیٹا پید اہو گا۔اس عورت نے اس کو بکری دے دی۔اس بدوی نے ایک وزن کے کئی ہم قافیہ الفاظ اس کے سامنے پڑھے۔کوئی اپنا جنتر منتر پڑھا اس کے سامنے۔پھر اس نے بکری ذبح کی اور جب لوگ کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ یہ بکری کیسی ہے۔پھر اس نے اس کا سارا قصہ سنایا۔کس طرح اس عورت سے اس نے یہ کہہ کے بکری لی تھی کہ میں اس پر دعا پڑھوں گا تو تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہو گا۔89366