اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 380
باب بدر جلد 2 حلیہ مبارک 380 حضرت ابو بکر صدیق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بارے میں مروی ہے یعنی ان کے حوالے سے بات کی گئی ہے کہ انہوں نے ایک عربی شخص کو دیکھا جو پیدل چل رہا تھا اور آپ اس وقت اپنے ہودج میں تھیں۔آپ نے فرمایا میں نے اس شخص سے زیادہ حضرت ابو بکڑ سے مشابہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔راوی کہتے ہیں ہم نے کہا حضرت عائشہ سے پوچھا کہ آپ ہمارے لیے حضرت ابو بکر نما حلیہ بیان کریں تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر گورے رنگ کے شخص تھے۔دبلے پتلے تھے رخساروں پر گوشت کم تھا۔کمر ذرا خمیدہ تھی ، ذرا جھکی ہوئی تھی کہ آپ کا تہ بند بھی کمر پہ نہیں رکتا تھا اور نیچے سرک جاتا تھا۔چہرہ کم گوشت والا تھا۔چہرہ زیادہ بھر اہوا نہیں تھا۔آنکھیں اندر کی طرف تھیں اور پیشانی بلند تھی۔881 ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا کہ حضرت ابو بکر خضاب لگاتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں مہندی اور کشم سے رنگ لگاتے تھے اپنے بالوں پر ، داڑھی پر۔کتم ایک بوٹی کا ہے۔882 خشیت الہی اور زہد و تقویٰ کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن جعفر اور حضرت ابو بکر کو کچھ زمین عطا فرمائی۔دونوں میں ایک درخت کے لیے اختلاف ہو گیا۔حضرت ابو بکر نے بحث کے دوران کوئی سخت بات کہہ دی لیکن بعد میں اس پر نادم ہوئے اور کہار بیعہ تم بھی مجھے کوئی ایسی سخت بات کہہ دو تا کہ وہ اس کا قصاص ہو جائے۔جس طرح میں نے سختی سے بات کی تم بھی مجھے بات کہہ دو لیکن حضرت ربیعہ نے انکار کر دیا۔وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ بیان کیا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ربیعہ تم سخت جواب نہ دو لیکن یہ دعا دو غَفَرَ اللهُ لكَ يَا آبَا بَكْرٍ اے ابو بکر ! اللہ تم سے در گذر فرمائے۔اس پر انہوں نے ایسا ہی کیا۔حضرت ابو بکر نے یہ بات جب سنی تو اس کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ زار و قطار روتے ہوئے واپس لوٹے۔883 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق نے ایک پرندہ دیکھا جو ایک درخت پر تھا۔آپ نے کہا اے پرندے اتجھے خوشخبری ہو۔اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں تمہاری مانند ہوتا۔تم درخت پر بیٹھتے ہو اور پھل کھاتے ہو اور پھر اڑ جاتے ہو۔تم پر کوئی حساب ہو گا اور نہ ہی کوئی عذاب۔اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں راستے کے ایک جانب ایک درخت ہو تا اور اونٹ میرے پاس سے گزر تا اور مجھے پکڑتا اور اپنے منہ میں ڈال لیتا اور مجھے چبا ڈالتا پھر وہ مجھے جلدی سے نگل لیتا پھر اونٹ مجھے مینگنی کی صورت میں باہر نکالتا اور میں انسان نہ ہوتا۔4 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ النبا کی آیت نمبر 41 وَيَقُولُ الْكَفِرُ لَيْتَنِي كُنْتُ 884