اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 357
اصحاب بدر جلد 2 357 حضرت ابو بکر صدیق ٹوٹا کی آنکھ کا نشانہ لے کر تیر چلایا اور اس کی آنکھ ہمیشہ کے لیے اندھی کر دی۔اس پر تو ما کو اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے ہٹنا پڑا اور انہوں نے قلعہ میں داخل ہو کر دروازے بند کر لیے۔ٹوٹا کی یہ حالت دیکھ کر اہل دمشق نے کہا کہ اس لیے ہم نے کہا تھا کہ ان عربوں سے مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس لیے عربوں سے مصالحت کی کوئی صورت اختیار کرنی چاہیے۔اس پر تو ما مزید غضبناک ہو گیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنی آنکھ کے بدلے میں ان کی ایک ہزار آنکھیں پھوڑ ڈالوں گا۔3 815 813 اہل دمشق کو حمص سے ہیں ہزار فوج کی مدد آنے کی توقع تھی۔814 مگر اسلامی فوج نے یہ تدبیر کی کہ فوج کے ایک دستے کو دمشق کے راستے پر مقرر کر دیا۔اس طرح حمص سے آنے والی فوج کو وہیں روک لیا گیا۔مسلمانوں نے دمشق کا سخت محاصرہ کیے رکھا۔اس میں حملوں، تیر اندازی اور منجنیقوں سے دشمن کو خوب پریشان کرتے رہے۔اہل دمشق کو جب یقین ہو گیا کہ ان کو امداد نہیں پہنچ سکتی اور ان میں کمزوری اور بزدلی پیدا ہو گئی تو انہوں نے مزید جد وجہد ترک کر دی اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کو زیر کرنے کا جذبہ بڑھ گیا۔5 اہل دمشق کا خیال تھا کہ سردیوں کی شدت میں مسلمان طویل محاصرہ کی تکلیفوں کو برداشت نہیں کر سکیں گے لیکن مسلمانوں نے حالات کا نہایت بہادری سے مقابلہ کیا۔دمشق کے اطراف کے خالی مکانات کو مسلمانوں نے راحت و آرام کے لیے استعمال کیا۔ہفتہ واری انتظام کے مطابق باری باری جو فوج محاذ پر ہوتی وہ آکر آرام کرتی اور جب وہ چلی جاتی تو دوسری فوج آکر آرام کرتی اور دروازوں پر متعین ان فوجی دستوں کے پیچھے ان کی حمایت اور نگرانی کے لیے دوسری فوج مقرر ہوتی۔اس طرح طویل سے طویل محاصرے پر بھی قابو پانا آسان ہو گیا لیکن مسلمانوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ دشمن کی منظم رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے ان کی میدانی تحقیقات اور جنگی چالیں اپنا کام کرتی رہیں اور رکاوٹوں کے اس منظم اور طویل سلسلہ میں حضرت خالد بن ولید ایک ایسے مناسب مقام کے انتخاب میں کامیاب ہو گئے جہاں سے دمشق میں داخل ہونا ممکن تھا۔یہ دمشق کا سب سے بہتر خطہ تھا۔اس مقام پر خندق کا پانی کافی گہر ا تھا اور وہاں سے داخل ہونا کافی دشوار طلب کام تھا۔حضرت خالد بن ولید نے دمشق میں داخل ہونے کی تدبیر یہ نکالی کہ چند رسیوں کو اکٹھا کیا تا کہ فصیل پر چڑھنے اور دمشق میں اترنے کے لیے ان میں پھند الگا کر سیڑھیوں کا کام لیا جا سکے۔حضرت خالد بن ولید کو کسی ذریعہ سے یہ خبر مل گئی تھی کہ دمشق کے بطریق، رومی فوج کے دس ہزاری لشکر کے قائد کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے ، ایک کمانڈر کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور سارے لوگ جن میں اس کے محافظ سپاہی بھی تھے دعوت میں مشغول ہیں۔چنانچہ وہ سب خوب کھا پی کر مست ہو کر سو گئے اور اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئے۔اسی دوران حضرت خالد بن ولید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مشکیزوں کے سہارے خندق عبور کر