اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 321

محاب بدر جلد 2 321 حضرت ابو بکر صدیق حکومت کو، جو آج کل شام ہے، سلطنت روم کہا جاتا تھا۔وہاں کے بادشاہ کو قیصر روم کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ایک اہم خواب آپ شام پر آپ ابھی اسی غور و فکر میں لگے ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت شتر خبیل بن حسنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے پاس بیٹھ گئے اور عرض کیا، اے رسول اللہ صلی علیم کے خلیفہ ! کیا لشکر کشی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ ہاں ارادہ تو ہے لیکن ابھی کسی کو مطلع نہیں کیا۔تم نے کس وجہ سے یہ سوال کیا ہے ؟ حضرت شرحبیل نے عرض کیا کہ جی ہاں اے رسول اللہ صلی علیم کے خلیفہ ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی راستے پر چل رہے ہیں۔پھر آپ ایک بلند چوٹی پر چڑھ گئے اور لوگوں کی طرف دیکھا اور آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی بھی ہیں۔پھر آپ اس چوٹی سے اتر کر ایک نرم زرخیز زمین میں آگئے جس میں فصلیں، چشمے ، بستیاں اور قلعے موجود ہیں اور آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ مشرکین پر حملہ کر دو۔میں تمہیں فتح اور مالِ غنیمت کے حصول کی ضمانت دیتا ہوں۔اس پر مسلمانوں نے حملہ کر دیا اور میں بھی جھنڈے کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھا۔میں ایک بستی کی طرف گیا تو اس کے رہنے والوں نے مجھ سے امان طلب کی۔میں نے انہیں امان دے دی۔پھر میں آپ کے پاس واپس پہنچا تو آپ ایک عظیم قلعہ تک پہنچ چکے تھے۔آپؐ کو فتح عطا کی گئی۔انہوں نے آپ سے صلح کی درخواست کی۔پھر آپ کے لیے ایک تخت رکھا گیا۔آپ اس پر تشریف فرما ہو گئے۔پھر آپ سے ایک کہنے والے نے عرض کیا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح سے نوازا ہے اور آپ کی مدد کی ہے لہذا آپ اپنے رب کا شکر ادا کریں اور اس کی اطاعت کرتے رہیں۔پھر اس شخص نے ان آیات کی تلاوت کی کہ اِذا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوا با یعنی جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر اور اس سے مغفرت مانگ۔یقیناً وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔کہتے ہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔یہ لمبی خواب تھی۔اس پر حضرت ابو بکر نے یہ خواب سن کے فرمایا کہ تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔تم نے اچھا خواب دیکھا ہے اور اچھا ہی ہو گا ان شاء اللہ۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اس خواب میں تم نے فتح کی خوشخبری اور میری موت کی اطلاع بھی دی ہے یہ بات کہتے ہوئے حضرت ابو بکر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔آپ نے فرمایا، رہاوہ پتھریلا علاقہ جس پر چلتے ہوئے ہم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے اور وہاں سے نیچے جھانک کر لوگوں کو دیکھا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس لشکر کے معاملہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان لشکر والوں کو بھی مصیبت جھیلنی پڑے گی۔اس کے بعد پھر ہمیں غلبہ اور استحکام