اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 315
حاب بدر جلد 2 315 حضرت ابو بکر صدیق مقابلے کے لیے بھیج دیا۔حضرت خالد بن ولیڈ کے پاس امراء القیس کلبی کا خط آیا۔یہ قبیلہ قضاعہ اور کلب پر رسول اللہ صلی علیم کے عامل تھے۔حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں یہ اسلام پر ثابت قدم رہے تھے۔ان کا خط آیا کہ ھذیل بن عمران نے مصیح میں اور ربیعہ بن بجید نے شنی اور بشر میں فوجیں جمع کی ہیں یہ لوگ عقہ کے انتقام کے جوش میں روز بہ اور زر مہر کے پاس جا رہے ہیں۔یہ معلوم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید نے حیرہ پر حضرت عیاض بن غنم کو اپنا نائب مقرر کیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے۔آپ نے خنافس جانے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جس سے قعقاع اور ابو سیلی گئے تھے۔آپ عین التمر میں ان دونوں سے مل گئے۔یہاں آکر آپ نے حضرت قعقاع کو امیر فوج بنایا اور ان کو حصید کی طرف روانہ کیا اور ابولیلی کو خنافس کی طرف بھیجا اور ان دونوں کو حکم دیا کہ دشمن اور ان کے بھڑ کانے والوں کو گھیر کر ایک جگہ جمع کرو اور اگر وہ جمع نہ ہوں تو اسی حالت میں ان پر حملہ کر دو۔حضرت قعقاع نے جب دیکھا کہ زر مہر اور روز بہ کوئی حرکت نہیں کر رہے تو انہوں نے حصید کی طرف پیش قدمی کی۔اس طرف کی عربی و عجمی فوجوں کا سر دار روز بہ تھا۔جب اس نے دیکھا کہ قعقاع اس کی طرف آرہے ہیں تو اس نے زر مہر سے مدد طلب کی۔زر مہر نے اپنی فوج پر نائب مقرر کیا اور بذات خود روز بہ کی مدد کے لیے آیا۔حصید میں دونوں فریقوں کا مقابلہ ہوا۔بڑی شدت کی جنگ ہوئی۔اللہ نے عجمیوں کی بہت بڑی تعداد کو قتل کرایا۔قعقاع نے زرمھر کو قتل کیا اور روز بہ بھی مارا گیا۔اس جنگ میں کثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔حصید کے بھاگے ہوئے لوگ خنافس میں جا کر جمع ہو گئے۔جنگ خنافس کے بارے میں لکھا ہے کہ ابولیلی اپنی فوج اور جو کمک ان کے پاس آئی تھی ان کو لے کر خنافس کی طرف نکلے۔حصید کا شکست خوردہ لشکر زر مہر کے نائب کے پاس پہنچا۔جب اس کو مسلمانوں کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ خنافس چھوڑ کر سب کے ساتھ مصیح بھاگ گیا۔وہاں کا افسر ھذیل تھا۔خنافس کی فتح کے لیے ابولیلی کو کچھ دشواری پیش نہ آئی۔ان تمام فتوحات کی اطلاع حضرت خالد بن ولید کی خدمت میں بھیج دی گئی۔46 جنگ مصیخ 746 جنگ مصیخ۔حضرت خالد بن ولید کو اہل حصید اور اہل خنافس کے بھاگنے کی اطلاع ہوئی تو آپے نے حضرت قعقاع، ابولیلی اعبد اور عروہ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے ان کو ایک رات ایک وقت مقرر کر کے مصیح پر ملنے کا وعدہ کیا۔مصیح خوران اور قلت کے درمیان واقع ہے۔حوران بھی دمشق کے قریب ایک وسیع علاقہ ہے جہاں بیشمار بستیاں اور کھیت ہیں۔حضرت خالد بن ولید عین التمر سے مصیخ روانہ ہوئے اور مقررہ رات کو طے شدہ وقت کے مطابق حضرت خالد بن ولید اور ان کے افسروں نے مصیخ پر ایک دم حملہ کر دیا اور ھذیل اس کی فوج اور تمام پناہ گزینوں پر تین اطراف سے حملہ کر دیا اور ھذیل چند لوگوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ گیا۔747