اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 314

اصحاب بدر جلد 2 314 حضرت ابو بکر صدیق باہر چھوڑ کر قلعہ کا دروازہ بند کر لیا جس کی وجہ سے باہر کے لوگ حیران و پریشان پھرنے لگے۔عاصم بن عمرو نے کہا اے بنو تمیم ! اپنے حلیف قبیلہ کلب کی مدد کرو اور ان کو پناہ دو کیونکہ تمہیں ان کی امداد کا ایسا موقع پھر کبھی نہیں ملے گا۔یہ سن کر بنو تمیم نے ان کی مدد کی۔اس روز عاصم کے امان دینے کی وجہ سے کلب قبیلہ کی جان بچ گئی۔حضرت خالد نے قلعہ کی طرف پسپا ہونے والوں کا پیچھا کیا اور اتنے آدمی قتل کیے کہ ان کی لاشوں سے قلعہ کا دروازہ مسدود ہو گیا۔پھر جو دی اور اس کے ساتھ باقی قیدیوں کو بھی قتل کر دیا۔صرف کلب کے قیدی بچ گئے کیونکہ عاصم اور اقرع اور بنو تمیم نے کہہ دیا تھا کہ ہم نے ان کو امان دی ہے۔پھر حضرت خالد قلعہ کے دروازے پر مسلسل چکر لگاتے رہے یہاں تک کہ اس کو توڑ کر دم لیا۔مسلمان قلعہ میں گھس گئے۔جنگجوؤں کو قتل کیا گیا اور نو عمروں کو قیدی بنالیا گیا۔743 فتح کے بعد حضرت خالد نے اقرع بن حابس کو انبار واپس جانے کا حکم دیا اور خود دومۃ الجندل میں قیام کیا۔744 دومة الجندل کے فتح ہونے سے مسلمانوں کو جنگی اعتبار سے بڑا اہم مقام حاصل ہو گیا کیونکہ دومۃ الجندل ایسے راستے پر واقع تھا جہاں سے تین سمتوں میں اہم راستے نکلتے تھے۔جنوب میں جزیرہ نمائے عرب اور شمال مشرق میں عراق اور شمال مغرب میں شام۔طبعی طور پر یہ شہر حضرت ابو بکر اور آپ کی فوج کی توجہ اور اہتمام کا مستحق تھا جو عراق میں بر سر پیکار تھی اور شام کی سرحدوں پر کھڑی تھی۔یہی سبب تھا کہ حضرت عیاض نے دُومة الجندل سے حرکت نہ کی بلکہ وہاں ڈٹے رہے اور حضرت خالد کے وہاں پہنچنے کا انتظار کیا۔اگر دُومة الجندل مسلمانوں کے قبضہ میں نہ آتا تو عراق میں مسلم فوجوں کے لیے خطرات کا سامنا تھا۔5 جنگ حصید اور خنافس 745 پھر جنگ حصید اور خنافس کا ذکر ہے۔حصید کو فہ اور شام کے درمیان ایک چھوٹی سی وادی ہے۔خنافس عراق کی طرف انبار کے قریب ایک جگہ ہے۔لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید دومۃ الجندل میں مقیم تھے اور عجمی بدستور حضرت خالد کے خلاف، مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔عقہ کے انتقام کے جوش میں جزیرے کے عربوں نے عجمیوں سے ساز باز کر لی تھی۔چنانچہ بغداد سے زر مہر اور اس کے ساتھ روز بہ انبار کی طرف روانہ ہوئے اور دونوں نے حصید اور خنافس پر ملنے کا وعدہ کیا۔حیرہ میں حضرت خالد بن ولید کے نائب حضرت قعقاع بن عمرو نے یہ خبر سنی تو آپ نے اعبد بن فد کی کو حصید کی طرف پہنچنے کا حکم دیا اور عروہ بن جعد کو خنافس کی طرف روانہ کیا۔حضرت خالد بن ولید دومہ سے جیزہ واپس آئے تو آپ کو بھی اس کی اطلاع ملی۔حضرت خالد م کا مدائن پر چڑھائی کا ارادہ تھا مگر یہاں پہنچ کر جب ان واقعات کا علم ہوا تو آپ نے حضرت قعقاع بن عمرو اور ابولیلی کو روز بہ اور زر مہر کے