اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 313
حاب بدر جلد 2 313 حضرت ابو بکر صدیق 739 ہوں اس سے بڑھ کر کوئی شخص اقبال مند نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ کوئی جنگ میں تیز ہے۔جو قوم خالد سے مقابلہ کرتی ہے خواہ وہ تعداد میں کم ہو یا زیادہ ضرور شکست پاتی ہے۔تم لوگ میرے مشورے پر عمل کرو اور ان لوگوں سے صلح کر لو مگر انہوں نے اس کا انکار کر دیا اس پر اکیدر نے کہا میں خالد کے ساتھ لڑنے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔تم جانو اور تمہارا کام جانے۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل دیا۔اس کی اطلاع حضرت خالد کو ہو گئی۔انہوں نے اس کا راستہ روکنے کے لیے عاصم بن عمرو کو بھیجا۔صلح کے لیے راضی نہیں ہوا تھا بلکہ وہاں سے چھوڑ کے چلا گیا، اپنے علاقے کی طرف جارہا تھا۔عاصم نے اکیدر کو جا پکڑا۔اس نے کہا تم مجھے اپنے امیر خالد کے پاس لے چلو۔جب وہ حضرت خالد کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اکیدر کو قتل کروادیا اور اس کے تمام سامان پر قبضہ کر لیا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکیدر کو قید کرنے کے بعد کیوں قتل کیا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ حضرت خالد کو غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی الیم نے اکیدر کی طرف روانہ کیا تھا۔آپ اس کو قید کر کے رسول اللہ صلی یکم کی خدمت میں لے آئے تھے۔رسول اللہ صلی الیم نے اس پر احسان کر کے اسے چھوڑ دیا تھا اور اس سے معاہدہ لکھوایا تھا لیکن اس نے اس کے بعد بد عہدی کی اور اس نے مدینہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔جس وقت اکیدر کو حضرت خالد کے دومۃ الجندل آنے کی اطلاع ملی تو یہ اپنی قوم کا ساتھ چھوڑ کر نکل گیا۔حضرت خالد کو دومۃ الجندل کے راستے میں اس کی خبر ملی جیسا بیان ہوا ہے۔آپ نے عاصم بن عمرو کو اس کے گرفتار کرنے کے لیے روانہ کیا۔انہوں نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کی سابقہ خیانت کی وجہ سے حضرت خالد نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کو قتل کر دیا گیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی خیانت اور غداری کی وجہ سے اسے ہلاک کیا۔بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسے قید کر کے مدینہ بھیج دیا گیا تھا اور حضرت عمرؓ کے عہد میں اسے رہائی ملی اور وہ مدینہ سے عراق چلا گیا۔وہاں عین التمر کے مقام دومہ ہی میں قیام پذیر ہوا 741 740 اور آخر تک وہیں رہا۔742 یہ دو روایتیں ہیں۔بہر حال اہل دومہ سے لڑائی کا جو واقعہ ہے اس بارہ میں لکھا ہے کہ حضرت خالد آگے بڑھ کر دومہ پہنچے۔حضرت خالد نے دومہ کو اپنی اور حضرت عیاض کی فوج کے وسط میں لے لیا۔نصرانی عرب جو اہل دومہ کی امداد کے لیے آئے تھے وہ قلعہ کے اطراف میں بیرونی جانب تھے کیونکہ قلعہ میں ان کی گنجائش نہیں تھی۔جب حضرت خالد اطمینان سے صف آرائی کر چکے تو دومہ کے سر داروں نے قلعہ سے نکل کر حضرت خالد پر حملہ کر دیا۔دونوں فریقوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔بالآخر حضرت خالد اور حضرت عیاض نے اپنے مد مقابل کو شکست دی۔حضرت خالد نے ایک سردار جو دی اور حضرت اقرع بن حابس نے ودیعہ کو گرفتار کر لیا جو قبیلہ کلب کا سر دار تھا۔باقی لوگ پسپا ہو کر قلعہ بند ہو گئے مگر قلعہ میں کافی گنجائش نہیں تھی۔جب قلعہ بھر گیا تو اندر والوں نے بہت سے لوگوں کو