اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 309

حاب بدر جلد 2 309 حضرت ابو بکر صدیق رض لوگوں نے ایک ساتھ تیر چلائے اور اس کے بعد کئی دفعہ ایسا ہی کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس روز تقریباً ایک ہزار آنکھیں پھوٹ گئیں۔اسی لیے یہ جنگ ذات العیون کے نام سے بھی مشہور ہے یعنی آنکھوں والی جنگ۔دشمنوں میں شور مچ گیا کہ اہل انبار کی آنکھیں جاتی رہیں لیکن اس پر بھی حاکم انبار نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے سے پس و پیش کی تو حضرت خالد بن ولید اپنی فوج کے کچھ کمزور اور نڈھال اونٹ لے کر خندق کے تنگ ترین مقام پر آئے۔پھر اونٹوں کو ذبح کر کے اس خندق میں ڈال دیا جس سے وہ بھر گئی اور ان جانوروں سے ایک پل بن گیا۔اب مسلمان اور مشرکین خندق میں ایک دوسرے کے سامنے تھے۔یہ دیکھ کر دشمن پسپا ہو کر قلعہ بند ہو گیا۔چنانچہ حاکم انبار شیر زاد نے پھر حضرت خالد بن ولید سے صلح کے لیے مراسلت کی اور درخواست کی کہ مجھ کو سواروں کے ایک دستے کے ساتھ جن کے ساتھ سامان وغیرہ کچھ نہ ہو یہاں سے نکلنے اور اپنے ٹھکانے پر پہنچنے کی اجازت دی جائے۔حضرت خالد بن ولید نے اس کو منظور کر لیا۔یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جو مؤرخ اور سیرت نگار حضرت خالد پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضرت خالد وحشت و بربریت کا بازار گرم رکھتے تھے اور قتل و غارت گری کیسے جاتے تھے ان کے لیے قابل غور ہے کہ سخت ترین جنگ کرنے اور بار بار صلح کی پیشکش کو بھی قبول نہ کرنے کے باوجود اس پر، دشمن پہ غلبہ پا لیا اور اس نے جب یہاں سے جانے کی اجازت مانگی تو پھر تین دن کا سامان رسد ساتھ لے کر جانے کی اجازت بھی دے دی اور کسی قسم کا تعرض نہیں کیا۔پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پر یہ الزام ہے کہ آپ ظلم کیا کرتے تھے۔جب شیر زاد یہاں سے جان بچا کر بہن جا ذویہ کے پاس پہنچا اور اس کو واقعات سے مطلع کیا تو اس نے شیر زاد کو ملامت کی اور اس پر شیر زاد نے کہا کہ میں وہاں ایسے لوگوں میں تھا جو عقل سے عاری تھے اور جو عربوں کی نسل سے تھے۔اس کا مسلمانوں کی طرف اشارہ نہیں تھا بلکہ اہل انبار میں سے عرب قبیلے کے لوگوں کی طرف اشارہ تھا جن کو کچھ پتہ نہیں تھا۔شیر زاد نے کہا میں نے سنا کہ مسلمان اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ہم پر حملہ آور ہیں اور جب بھی کوئی قوم اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کام کرے تو فتح اس پر واجب ہو جاتی ہے۔چنانچہ جب ان سے ہماری فوج کا مقابلہ ہوا تو انہوں نے ہمارے قلعہ اور زمینی لشکر میں سے ایک ہزار آنکھیں پھوڑ ڈالیں۔اس سے مجھے معلوم ہوا کہ صلح کرنا ہی بہتر ہے۔جب حضرت خالد بن ولید کو رسب مسلمانوں کو انبار کے حالات کے بارے میں اطمینان ہو گیا اور اہل انبار بھی بے خوف ہو کر باہر آگئے تو حضرت خالد بن ولید نے دیکھا کہ وہ لوگ عربی زبان لکھتے پڑھتے ہیں۔تو حضرت خالد نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم عرب کی ہی ایک قوم ہیں اور ہم یہاں ان عربوں کے پاس آکر اترے تھے جو ہم سے پہلے یہاں آباد تھے اور وہ پہلے عرب بخت نصر کے عہد میں آئے تھے جب اس نے عربوں کو آباد ہونے کی اجازت دی تھی اور پھر یہیں رہ پڑے۔حضرت خالد نے پوچھا تم نے لکھنا کس سے سیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے لکھنا عربی قبیلہ بنو ایاد سے سیکھا ہے۔اس کے بعد حضرت