اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 306 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 306

حاب بدر جلد 2 306 حضرت ابو بکر صدیق یہ تحریر اہل جیزہ کے حوالے کر دی گئی اور جب حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد اہل سواد مرتد ہو گئے تو ان لوگوں نے اس معاہدے کی توہین کی اور اس معاہدے پر عمل نہ کیا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ انہوں نے بھی کفر کا ارتکاب کیا اور لوگوں پر اہل فارس کا تسلط ہو گیا۔جب حضرت مثلی نے حضرت عمر کے دور خلافت میں حیرہ کو دوبارہ فتح کیا تو ان لوگوں نے اسی معاہدے کو پیش کیا مگر حضرت منلی نے اس کو قبول نہیں کیا اور ان پر دوسری شرط عائد کی۔پھر جب حضرت مثلی بعض مقامات میں مغلوب ہو گئے۔جنگوں میں ان کو بھی کچھ پیچھے ہٹنا پڑا تو ان لوگوں نے دوبارہ لوگوں کے ساتھ مل کر کفر اختیار کیا۔باغیوں کی اعانت اور معاہدے کی توہین کی اور اس معاہدے پر عمل نہ کیا۔پھر جب حضرت سعد نے حیرہ کو فتح کیا تو ان لوگوں نے سابقہ معاہدے پر تصفیہ چاہا تو حضرت سعد نے کہا ان دونوں میں سے کوئی ایک معاہدہ پیش کرو مگر وہ لوگ پیش کرنے سے قاصر رہے۔اس پر حضرت سعد نے ان پر خراج عائد کیا اور ان کی مالی استطاعت کی تحقیقات کرنے کے بعد علاوہ موتیوں کے چار لاکھ کا خراج عائد کیا۔جب تیرہ فتح ہو گیا تو حضرت خالد نے نماز فتح پڑھی جس میں آٹھ رکعات ایک سلام سے ادا کیں۔یعنی اکٹھی آٹھ رکعات پڑھیں۔اس سے فارغ ہو کر آئے تو کہا جنگ موتہ میں جب میں نے لڑائی کی تھی تو اس وقت میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔میں نے کبھی کسی قوم سے جنگ نہیں کی جیسی اس قوم سے جنگ کی ہے جو اہل فارس میں سے ہیں اور میں نے اہل فارس میں سے کسی سے جنگ نہیں کی جیسی اہل 727 الیس سے کی۔پھر لکھا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت خالد کی خدمت میں تحائف بھی بھیجے تھے لیکن حضرت خالد نے فتح کی خوشخبری کے ساتھ وہ تحائف بھی حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیے۔حضرت ابو بکر نے بھی عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کا سبق دیتے ہوئے ان سب تحائف کو جزیہ میں شمار کر کے قبول کر لیا اور حضرت خالد کو لکھا کہ یہ تحائف اگر جزیہ میں شامل ہیں تو خیر ، ورنہ تم ان کو جزیہ میں شامل کر کے بقیہ رقم وصول کرو۔یعنی تحفہ کے طور پر یہ چیزیں وصول نہیں کیں بلکہ جزیہ کے طور پر کیں۔مسلمانوں نے حیرہ کے مقامی باشندوں کے ساتھ بڑی کشادہ دلی کا معاملہ کیا۔یہ سلوک دیکھ کر گر دو نواح کے زمینداروں اور رئیسوں نے بھی جزیہ دینا قبول کر کے مسلمانوں کی ماتحتی اختیار کرلی۔8 فتح حیرہ عظیم جنگی اہمیت کی حامل ثابت ہوئی۔اس سے مسلمانوں کی نگاہ میں فتح فارس کی امیدیں بڑھ گئیں کیونکہ عراق اور فارسی سلطنت کے لیے جغرافیائی اور ادبی حیثیت سے اس شہر کی بڑی اہمیت تھی۔اس کو اسلامی فوج کے سپہ سالار اعظم نے اپنا مرکز اور صدر مقام قرار دیا جہاں سے اسلامی افواج کو ہجوم و دفاع اور نظم و امداد کے احکام جاری کیے جاتے تھے اور قیدیوں کے امور کے نظم و ضبط سے متعلق تدبیر وسیاست کا مرکز بنایا اور وہاں سے حضرت خالد نے خراج اور جزیہ کو وصول کرنے کے لیے مختلف صوبوں پر عامل مقرر کیے اور اس طرح سرحدوں پر امراء مقرر کیے تاکہ دشمن سے حفاظت ہو 728