اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 300

محاب بدر جلد 2 300 حضرت ابو بکر صدیق دلائی ہے؟ تجھ میں میر امقابلہ کرنے کی طاقت کہاں ! یہ کہہ کر آپ نے اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا اور عجمیوں کو قبل اس کے کہ وہ کچھ کھائیں، دستر خوان پر سے اٹھا دیا۔جابان نے اپنے لوگوں سے کہا کیا میں نے تم سے پہلے نہیں کہا تھا کہ کھانا شروع نہ کرو۔بخدا! مجھے کسی سپہ سالار سے ایسی دہشت نہیں ہوئی ہے جیسی کہ آج اس لڑائی میں ہو رہی ہے۔جب وہ لوگ کھانا کھانے پر قادر نہ ہو سکے تو اپنی بہادری جتانے کے لیے کہنے لگے کہ کھانے کو فی الحال ہم چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ ہم مسلمانوں سے فارغ ہو لیں پھر ہم کھانا کھا لیں گے۔جانان نے کہا کہ بخد امیر المان یہ ہے کہ تم نے یہ کھانا دشمن کے لیے رکھ چھوڑا ہے۔یہ نہ سمجھو کہ تم لوگ جیت جاؤ گے اور پھر کھا لو گے بلکہ مجھے لگتا ہے یہ کھانا تو تمہارا دشمن ہی کھائیں گے یعنی مسلمان ہی کھائیں گے جبکہ تم شعور نہیں رکھتے۔تو پھر اس نے لوگوں کو کہا میری بات مانو تو یہ ہے کہ کھانے میں زہر ملا دو۔اگر تمہاری فتح ہوئی تو یہ نقصان بہت کم ہے کھانا ضائع ہونے کا اور اگر فتح دشمن کی ہوئی تو تم کوئی ایسا کام کر چکے ہو گے جس سے دشمن زہریلا کھانا کھانے کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہو گا۔مگر وہ لوگ جو تھے ان کو تو اپنی فتح کا پختہ یقین تھا۔ان لوگوں نے کہا کہ نہیں اس کی ، زہر ملانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم آرام سے جنگ جیتیں گے اور پھر کھانا کھائیں گے۔حضرت خالد نے اپنی فوج کی صف آرائی اس طرح کی جیسا کہ اس سے پہلے کی لڑائیوں میں کر چکے تھے۔شدید ترین لڑائی ہونے لگی۔ایرانیوں کو بہمن جادویہ کے آنے کی توقع تھی اس لیے خوب جم کر بڑی شدت سے لڑے کیونکہ جابان ان کو امید دلار ہا تھا کہ وہ ایک بڑا لشکر لے کر چل پڑا ہے اور ابھی پہنچنے ہی والا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ بہن کو تو ایرانی بادشاہ کے بیمار ہونے کی وجہ سے نہ تو بادشاہ سے صورتحال ذکر کرنے کا موقع ملا اور نہ ہی وہ خود لشکر لے کر آسکتا تھا بلکہ اس کا جابان سے کسی قسم کا رابطہ بھی نہ رہا تھا۔بہر حال اس جنگ میں مسلمان بھی ان کے خلاف خوب جوش اور غضب میں آئے بڑی سخت جنگ ہوئی۔میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولید کی دعا 718 ایرانی فوج کے جوش و جذبہ اور مسلمانوں کی کمزور پڑتی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ایک سیرت نگار لکھتا ہے کہ ایرانی لشکر میں سے پہلے عیسائیوں نے حملہ کیا لیکن ان کا سر دار مالک بن قیس مارا گیا۔اس کا مارا جانا تھا کہ ان کی ہوا اکھڑ گئی اور وہ بد دل ہو گئے۔یہ دیکھ کر جابان نے ایرانی فوج کو آگے جھونک دیا۔ایرانی اس امید پر کہ ابھی بہن نئی کمک لے کر آیا چاہتا ہے خوب دلیری سے لڑے۔مسلمانوں نے بار بار حملے کیے لیکن ہر بار ایرانیوں نے کمال پامردی اور مستقل مزاجی سے حملے کو ناکام بنا دیا۔بالآخر حضرت خالد بن ولید نے مادی اسباب و ذرائع کو ناکافی ہوتا دیکھ کر بڑی عاجزی سے ہاتھ اٹھا کر دعامانگی اور عرض کی کہ اے اللہ ! اگر تو مجھے دشمنوں پر غلبہ عطا فرمائے گا تو میں کسی ایک دشمن کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا اور یہ دریا ان کے خون سے سرخ ہو جائے گا۔بعض کتب میں ہے کہ حضرت خالد نے قسم کھائی تھی یا نذر مانی تھی کہ اگر اس جنگ میں فتح ہو گئی تو کسی بھی دشمن جنگجو کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔بہر حال اس کے بعد