اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 16
اصحاب بدر جلد 2 16 حضرت ابو بکر صدیق جہاں تک نوجوان کا تعلق ہے تو وہ مشکلات میں کو د جانے والا اور پریشانیوں کو روکنے والا ہو گا اور بڑی عمر والا سفید اور پتلے جسم والا ہو گا اس کے پیٹ پر تل ہو گا اور اس کی بائیں ران پر ایک علامت ہو گی۔اس نے کہا تمہارے لیے ضروری نہیں ہے کہ تم مجھے وہ دکھاؤ جو میں نے تم سے مطالبہ کیا ہے تم میں موجود باقی تمام صفات میرے لیے پوری ہو چکی ہیں سوائے اس کے جو مجھ پر مخفی ہے۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: بس میں نے اس کے لیے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو اس نے میری ناف کے اوپر سیاہ تل دیکھا تو کہنے لگا کہ کعبہ کے رب کی قسم وہ تم ہی ہو ! الله سة میں تمہارے سامنے ایک معاملہ پیش کرنے والا ہوں۔پس تم اس کے متعلق محتاط رہنا۔حضرت ابو بکر نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ خبر دار ہدایت سے انحراف نہ کرنا اور مثالی اور بہترین راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور خداجو تمہیں مال اور دولت دے اس کے متعلق خدا سے ڈرتے رہنا۔حضرت ابو بکر صدیق کہتے ہیں کہ میں نے یمن میں اپنا کام پورا کیا اور پھر اس بوڑھے شخص کو الوداع کہنے کے لیے اس کے پاس آیا تو اس نے کہا کیا تم میرے ان اشعار کو یاد کرو گے جو میں نے اس نبی کی شان میں کہے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں تو اس نے چند اشعار سنائے۔حضرت ابو بکر" کہتے ہیں کہ پھر میں مکہ آیا تو نبی کریم صلی علیکم مبعوث ہو چکے تھے۔پھر عقبہ بن ابی معیط، شیبه، ربیعه، ابوجهل، ابو بختری اور قریش کے دیگر سردار میرے پاس آگئے۔میں نے ان سے کہا: کیا تم پر کوئی مصیبت آگئی یا کوئی واقعہ ہو گیا ہے جو اکٹھے ہو کے آگئے ہو۔انہوں نے کہا کہ اے ابو بکر ! بہت بڑا واقعہ ہو گیا ہے۔ابو طالب کا یتیم دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔اگر آپ نہ ہوتے تو ہم اس کے متعلق کچھ انتظار نہ کرتے۔اب جبکہ آپ آچکے ہیں تو اب اس معاملے کے لیے آپ ہی ہمارا مقصود ہیں اور ہمارے لیے کافی ہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں نے انہیں اچھے انداز سے ٹال دیا اور میں نے نبی کریم صلی لنی کیم کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا کہ آپ خدیجہ کے مکان میں ہیں۔میں نے جا کر دروازے پر دستک دی۔چنانچہ وہ باہر تشریف لائے۔پس میں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے خاندانی گھر سے اٹھ گئے ہیں اور آپ نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے۔آنحضرت صلی الیہ کم نے فرمایا کہ اے ابو بکر ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف بھی اور تم تمام لوگوں کی طرف بھی۔پس تم اللہ پر ایمان لے آؤ۔میں نے کہا اس پر آپ کی کیا دلیل ہے ؟ آنحضرت صلی علیہ ہم نے فرمایا وہ بوڑھا شخص جس سے تم نے یمن میں ملاقات کی تھی۔میں نے کہا کہ یمن میں تو بہت سے بوڑھے نص تھے جن سے میں نے ملاقات کی ہے۔آنحضرت صلی علی کریم نے فرمایا وہ بوڑھا شخص جس نے تمہیں اشعار سنائے تھے۔میں نے عرض کیا کہ اے میرے حبیب! آپ سے کس نے یہ خبر بیان کی؟ آنحضرت صلی الم نے فرمایا اس عظیم فرشتے نے جو مجھ سے پہلے انبیاء کے پاس بھی آتا تھا۔میں نے عرض کیا آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔حضرت ابو بکر فرماتے تھے کہ پھر میں لوٹا اور میرے اسلام لانے کی وجہ سے مکہ کے دو پہاڑوں کے در میان رسول اللہ صلی علیہ کم سے زیادہ خوش کوئی اور نہ ہوا۔60