اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 279 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 279

اصحاب بدر جلد 2 279 674 حضرت ابو بکر صدیق تم اس دین کی مدد کرو تو اللہ تم کو بلند مراتب سے نوازے گا۔پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی آزاد کر دیا اور ان دونوں یعنی عمر و اور قیس کو ان کے قبائل کے سپرد کر دیا۔عمرو نے کہا یقیناً میں اب امیر المومنین کی نصیحت کو ضرور قبول کروں گا اور ہر گز یہ غلطی دوبارہ نہیں کروں گا۔چونکہ واضح ثبوت نہیں تھے تو دونوں کو ان کی سرداری کی وجہ سے اور ان کے علم کی وجہ سے معاف کر دیا۔ان لوگوں کی معافی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت ابو بکر کے متعلق ایک اور سیرت نگار نے لکھا ہے کہ ابو بکر بڑے دُور اندیش، گہری بصیرت کے مالک اور انجام کار پر نگاہ رکھتے تھے۔جہاں سختی کی ضرورت ہوتی سختی کرتے۔جہاں عفو و در گزر کی ضرورت ہوتی عفو و در گزر سے کام لیتے۔آپ قبائل کے بکھرے ہوئے لوگوں کو اسلام کے پرچم تلے جمع کرنے کے حریص اور شوقین تھے۔آپ کی حکیمانہ سیاست یہ تھی کہ مخالف زعمائے قبائل کو حق کی طرف لوٹ آنے کے بعد در گزر کر دیا جائے۔جس وقت آپ نے یمن کے مرتد قبائل کو تابع کیا انہیں اسلامی سلطنت کے سطوت و غلبہ اور مسلمانوں کی عزت و فتح مندی کی قوت اور ان کی عزیمت کی پیش قدمی کا مشاہدہ کرایا تو قبائل نے اعتراف کر لیا اور اسلامی حکومت کے تابع ہو گئے اور خلیفہ رسول کی اطاعت قبول کر لی۔ابو بکر نے یہ مناسب سمجھا کہ ان زعمائے قبائل کے ساتھ تالیف کی جائے اور سختی کی بجائے نرمی اور رفق کا برتاؤ کیا جائے۔چنانچہ ان سے سزائیں اٹھا لیں۔ان سے نرم گفتگو کی اور قبائل کے اندر ان کے نفوذ واثر کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔آپ نے ان کی لغزشوں کو معاف کیا۔ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔قیس بن عَبْدِ يَغُوث اور عمر و بن مَعْدِی گرب کے ساتھ یہی بر تاؤ کیا۔یہ دونوں عرب کے بہادروں اور عقلمندوں میں سے تھے۔ان کو ضائع کرنا ابو بکر کو اچھانہ لگا۔آپؐ نے اس بات کی کوشش کی کہ انہیں اسلام کے لیے خالص کر لیں اور اسلام اور ارتداد کے در میان تردد سے ان کو نکال باہر کریں۔ابو بکر نے عمرو بن معدی گرب کو رہا کر دیا۔پھر اس دن کے بعد عمرہ کبھی مرتد نہ ہوا بلکہ اسلام قبول کیا اور اچھی طرح مسلم بن کر زندگی گزاری۔اللہ نے اس کی مدد کی اور اس نے اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔قیس بھی اپنے کیے پر نادم ہوا۔ابو بکرؓ نے اسے بھی معاف کر دیا۔عرب کے ان دونوں سورماؤں کو معاف کر دینے سے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ابو بکر نے اس طرح ان لوگوں کے دلوں کو جوڑا جو ارتداد کے بعد خوف یالالچ میں اسلام کی طرف واپس ہوئے اور آپ نے اشعث بن قیس کو معاف کر دیا۔اس طرح صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں کو اسیر کیا اور ان کے دلوں کے مالک بن بیٹھے اور مستقبل میں یہ لوگ اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کی قوت کا ذریعہ بنے۔یعنی کوئی زبر دستی نہیں تھی بلکہ دل سے انہوں نے اسلام قبول کیا اور حضرت ابو بکر کی اطاعت کی۔حضرت مُہاجر نجران سے کیجیے علاقے کی طرف روانہ ہوئے اور جب گھڑ سواروں نے ان لوگوں 675