اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 264
حاب بدر جلد 2 264 حضرت ابو بکر صدیق کو حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں بیان کیا جاتا ہے لیکن بعض مؤرخین دارین کی جنگ کو حضرت عمر 637 کے دور میں لکھتے ہیں۔بہر حال مرتدین کا اجتماع یہاں ہوا۔دارین خلیج فارس کا ایک جزیرہ تھا جو بحرین کے بالمقابل چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔وہاں پہلے سے عیسائی خاندان آباد تھے۔حضرت علاء سے شکست کھانے کے بعد بچ جانے والے شکست خوردہ باغیوں کا ایک بڑا حصہ کشتیوں میں بیٹھ کر دارین چلا گیا اور دوسرے لوگ اپنے اپنے قبائل کے علاقوں میں پلٹ گئے۔حضرت علاء بن حضرمی نے قبیلہ بکر بن وائل کے اُن لوگوں کو جو اسلام پر قائم تھے لکھا کہ ان کا مقابلہ کریں۔نیز حضرت عتیبہ بن ناس اور حضرت عامر بن عبد الا سود کو حکم بھیجا کہ تم وہیں پر رہو جہاں پر تم ہو اور ہر راستے پر مرتدین کے مقابلے کے لیے پہرے بٹھا دو۔نیز انہوں نے حضرت مشمع کو حکم دیا کہ وہ خود بڑھ کر مرتدین کا مقابلہ کریں اور انہوں نے حضرت خضہ تیمی اور حضرت مثلی بن حارثہ شیبانی کو حکم دیا کہ وہ بھی ان مرتدین کا مقابلہ کریں۔بحرین میں فتنہ ارتداد کی آگ بجھانے میں مثلی بن حارثہ نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنی فوج کے ساتھ حضرت علاء بن حضر می شما ساتھ دیا اور بحرین سے شمال کی طرف روانہ ہوئے۔انہوں نے قطیف اور ھجر پر قبضہ کیا۔اپنے اس مشن میں لگے رہے یہاں تک کہ فارسی فوج اور ان کے ممال پر غالب آئے جنہوں نے بحرین کے مرتدین کی مدد کی تھی۔مرتدین سے قتال کے لیے ان علاقوں میں جو اسلام پر ثابت قدم رہے تھے انہیں لے کر حضرت علاء بن حضرمی کے ساتھ شامل ہو گئے۔ساحل کے ساتھ شمال کی طرف بڑھتے رہے اور جس وقت حضرت ابو بکر نے حضرت مُعلی بن حارثہ شیبانی کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت قیس بن عاصم نے کہا کہ یہ کوئی غیر معروف، مجبول النسب اور غیر شریف انسان نہیں۔وہ تو مٹی بن حارثہ شیبانی ہیں۔چنانچہ حضرت مُعلی بن حارثہ شیبانی مرتدین کے روکنے کے لیے راستوں کے ناکوں پر کھڑے ہوئے اور مرتدین میں سے بعض نے توبہ کی اور اسلام لے آئے جسے تسلیم کیا گیا۔اور بعض نے تو بہ کرنے سے انکار کر دیا اور ارتداد پر اصرار کیا۔ان کو ان کے علاقے میں جانے سے روک دیا گیا۔اس لیے وہ پھر اسی رستے پر پلٹے جہاں سے وہ آئے تھے یہاں تک کہ وہ بھی کشتیوں کے ذریعہ دارین پہنچ گئے۔اس طرح اللہ نے ان سب کو ایک جگہ جمع کر دیا۔حضرت علاء ابھی تک مشرکین کے لشکر میں ہی مقیم تھے کہ ان کے پاس بکر بن وائل، جن کو انہوں نے خط لکھے تھے، کے خطوط کے جواب موصول ہو گئے اور ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ لوگ اللہ کے حکم پر عمل کریں گے اور اس کے دین کی حمایت کریں گے۔جب حضرت علاء کو ان لوگوں کے بارے میں حسب مراد خبر مل گئی یعنی کہ وہ مسلمان ہیں اور بغاوت نہیں کر رہے اور لڑائی نہیں کریں گے اور ان کو یقین ہو گیا کہ ان کے جانے کے بعد پیچھے اہل بحرین میں سے کسی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا تو انہوں نے کہا کہ اب تمام مسلمانوں کو دارین کی طرف چلنا چاہیے اور ان کو دارین پر پیش قدمی کی دعوت دی۔