اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 259

حاب بدر جلد 2 259 حضرت ابو بکر صدیق کا نام عبد اللہ بن حذف بھی آتا ہے اس نے اس موقع پر حضرت ابو بکر اور اہالیانِ مدینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ اشعار کہے جن میں اپنی بے بسی اور بے چارگی اور حوصلہ اور صبر کی کیفیت کا اظہار کیا۔أَلا أَبْلِغْ أَبَا بَكْرٍ رَسُولًا و فِتْيَانَ الْمَدِينَةِ أَجْمَعِيْنَا فَهَلْ لِي فِي شَبَابِ مِنْكَ أَمْسَوْا جيَاعًا فِي جَوَالى مُحْصَرِينَا كَانَ دِمَاؤُهُمْ فِي كُلِّ فَحَ شُعَاعُ الشَّمْسِ يَغْشَى النَّاظِرِينَا تحَاصِرُهُم بَنُو ذُهل وعجل و شَيْبَانَ وَ قَيْسٍ ظَالِمِينَا يَقُوْدُهُمُ الْغُرُورُ بِغَيْرِ حَقَّ لِيَسْتَلِبَ الْعَقَائِلَ وَ الْبَنِينَا فَلَمَّا اشْتَلَّ حَصْرُهُمْ وَطَالَتْ أكفُهُمُ مَا فِيْهِ بُلِيْنَا وجدنا الْفَضْلَ لِلْمُتَوَكِّلِينَا و بِالْإِسْلَامِ دِينًا قَدْ رَضِيْنَا وَ قَدْ سَفِهَتْ حُلُومُ يَنِي أَبِيْنَا تَكُونُوا أَوْ نَكُونَ النَّاهِبِيْنَا تَوَكَّلْنَا عَلَى الرَّحْمنِ إِنَّا وَ قُلْنَا قَدْ رَضِيْنَا اللَّهَ رَبَّا وَ قُلْنَا وَ الْأُمُورُ لَهَا قَرَارُ نُقَاتِلُكُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى بِكُلِّ مُهَنَّدٍ عَضَبِ حُسَامٍ يَقُدُّ الْبَيْضَ وَالزُّرْدَ اللَّفِيْنَا یہ تھوڑی سی لمبی نظم ہے۔بہر حال اس کا جو ترجمہ ہے وہ اس طرح ہے کہ اے سننے والے ! ابو بکر اور مدینہ کے سب جوانوں کو پیغام پہنچا دے۔وہ نوجوان جنہوں نے جوائی میں بھوک اور محاصرے کی حالت میں شام کی، کیا ان کے بارے میں مجھے آپ کی طرف سے مدد ملے گی؟ اور ہر راستے میں ان کے خون ایسے پڑے ہوئے ہیں کہ سورج کی کرنیں ہیں جو دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کر رہی ہیں۔بنو ڈھل اور عجل اور شیبان اور قیس قبائل نے ظلم کرتے ہوئے ان سب کا محاصرہ کر لیا ہے۔ان کی قیادت غرور کر رہا ہے (غرور کا اصل نام ممنذر بن نعمان بن منذر تھا) تاکہ ناحق وہ ہماری بیویاں اور اولاد چھین لے۔جب ان کا محاصرہ شدت اور طوالت اختیار کر گیا تو انہوں نے ہم پر غلبہ پا لیا جس سے ہم آزمائش میں ڈالے گئے۔ہم نے رحمان خدا پر توکل کر لیا کیونکہ ہم نے اس کا فضل تو کل کرنے والوں کو ملتا ہوا دیکھا ہے۔تو ہم نے کہا کہ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس بات پر بھی راضی ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے اور ہم نے کہا معاملات سنبھل ہی جاتے ہیں اور ہمارے آباء کی اولادوں کی عقلیں ماری گئی ہیں۔ہم اسلام پر قائم رہتے ہوئے تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یا تم مارے جاؤ یا ہم۔ہر اس تیز ہندی تلوار کے ساتھ جنگ کریں گے جو تیز کاٹ رکھنے والی اور خود اور زرہ کو کاٹتی ہے۔تو یہ پیغام نظم کی صورت میں ”عبدی“ نے بھجوایا۔جب حضرت ابو بکر نے یہ شعر پڑھے تو عبد القیس کی حالت کا علم ہونے پر آپ کو شدید غم پہنچا۔آپ نے حضرت علاء بن حضرمی کو طلب فرمایا اور لشکر کی کمان ان کے سپرد کی اور دو ہزار مہاجرین و انصار کے ساتھ بحرین کی طرف عبد القیس کی مدد کے لیے روانگی کا حکم دیا اور ہدایت فرمائی کہ عرب کے