اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 185

اصحاب بدر جلد 2 185 حضرت ابو بکر صدیق لی اور جو ذمہ داری آپ پر تھی اسے پورا کر لیا اور اللہ نے آپ پر اور اہل اسلام پر اپنی اس کتاب میں جو اس نے نازل فرمائی اس بات کو خوب کھول کر بیان کر دیا۔چنانچہ فرمایا: یک إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ يَتُونَ (الزمر:31) یعنی یقینا تو بھی مرنے والا ہے اور یقیناوہ بھی مرنے والے ہیں۔نیز فرمایا وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرِ مِن قَبْلِكَ الْخُلد (35:40:10) اور ہم نے کسی بشر کو تجھ سے پہلے ہمیشگی نہیں دی۔اَفَابِنُ مِتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ (1) نبی : 35 پس اگر تو مر جائے تو کیا وہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ؟ مزید بر آس مومنوں سے فرمایا: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَا بِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَ اللَّهَ شَيْئًا وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّكِرِينَ (آل عمران :145) اور محمد صلی یتیم نہیں ہیں مگر ایک رسول یقینا اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔پس اگر یہ وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گاوہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ یقینا شکر گزاروں کو جزا دیتا ہے۔پھر آپ لکھتے ہیں۔پس وہ جو محمد صلی الیکم کی عبادت کیا کرتا تھاوہ جان لے کہ محمد تو فوت ہو چکے اور وہ جو واحد و یگانہ لاشریک اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا اسے معلوم ہو کہ اللہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔وہ زندہ ہے اور قائم دائم ہے۔وہ نہیں مرے گا۔اسے اونگھ اور نیند نہیں آتی۔وہ اپنے کاموں کا محافظ ہے۔اپنے دشمن سے انتقام لینے والا ہے اور اسے سزادینے والا ہے۔میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی اور تمہارے اس بخت کی اور نصیب کے حصول کی جو اللہ کے ہاں تمہارے لیے مقرر ہے اور وہ تعلیم جو تمہار نبی صلی علیکم تمہارے پاس لے کر آیا اس پر عمل کرنے کی تمہیں تاکید کرتا ہوں اور یہ کہ تم آپ صلی الیکم کی راہنمائی سے راہنمائی حاصل کرو اور اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑے رکھو کیونکہ ہر وہ شخص جسے اللہ ہدایت نہ دے وہ گمراہ ہے اور ہر وہ شخص جسے وہ نہ بچائے وہ آزمائش میں پڑے گا اور ہر وہ شخص جس کی وہ اعانت نہ فرمائے وہ بے یارو مددگار ہے۔پس جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ قرار دے وہ گمراہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مَنْ يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مرشد (البف :18) جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ ٹھہرادے تو اس کے حق میں کوئی ہدایت دینے والا دوست نہ پائے گا۔آپ آگے لکھتے ہیں کہ اور اس کا دنیا میں کیا ہوا کوئی عمل اس وقت تک قبول نہ کیا جائے گا جب تک وہ اس دین اسلام کا اقرار نہ کرلے اور نہ ہی آخرت میں اس کی طرف سے کوئی معاوضہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا اور مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں سے بعض نے اسلام کا اقرار کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہوئے اور اس کے معاملے میں جہالت برتتے ہوئے اور شیطان کی بات مانتے ہوئے اپنے دین سے ارتداد اختیار کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ إِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِأدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقُ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ افَتَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَةً أَوْلِيَاء مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّلِمِينَ بَدَلًا (الكيف : 51) اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کے لئے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ جنوں میں سے تھا۔پس وہ اپنے رب کے حکم سے روگردان ہو گیا۔تو کیا تم اسے اور اس کے چیلوں کو میرے سوا دوست پکڑ کر 11