اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 181
محاب بدر جلد 2 181 حضرت ابو بکر صدیق ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ کریم نے احد کے دن فرمائی تھی۔آپ نے تلوار کیوں سونتی ہے ؟ ہمیں اپنی جان کی وجہ سے مصیبت میں نہ ڈالیے۔حضرت علی نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ ہمیں اپنی جان کی وجہ سے مصیبت میں نہ ڈالیے۔اللہ کی قسم ! اگر ہمیں آپ کی جان کی مصیبت پہنچی تو آپ کے بعد ہمیشہ کے لیے اسلام کا نظام نہ رہے گا۔اس پر حضرت ابو بکر واپس تشریف لے گئے اور فوج کو بھیج دیا۔8 458 مرتد باغیوں کے خلاف گیارہ مہمات کی تیاری جب حضرت اسامہ اور ان کے لشکر نے آرام کر لیا اور ان کی سواریاں بھی تازہ دم ہو گئیں اور اموال زکوۃ بھی بکثرت آگئے جو مسلمانوں کی ضرورت سے زائد تھے تو حضرت ابو بکر نے فوج کو تقسیم کیا اور گیارہ جھنڈے باندھے۔1 ایک جھنڈ ا حضرت خالد بن ولیڈ کے لیے باندھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ طلیحہ بن خویلد کے مقابلے پر جائیں اس سے فارغ ہو کر بطاح میں مالک بن نویرہ سے مقابلہ کے لیے جائیں اگر اس وقت تک وہ ان کے مقابلہ پر جمار ہے۔یہ سب مرتدین تھے ، جنگ کرنا چاہتے تھے۔بُطاح بنو اسد کے علاقے میں ایک چشمہ کا نام ہے۔اس طرف آپ نے بھیجا۔2 حضرت عکرمہ بن ابو جہل کے لیے جھنڈ ا باندھا اور ان کو مسیلمہ کے مقابلے کا حکم دیا۔3 تیسر ا جھنڈ ا حضرت مُهَاجِر بن ابو امیہ کے لیے باندھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ عنسی کی فوجوں کا مقابلہ کریں۔پھر قیس بن مَكْشُوح اور ان اہل یمن کے مقابلہ میں جو ابناء سے بر سر پیکار تھے ابناء کی امداد کریں۔ابناء بھی اہل فارس میں سے ایک قوم کی اولاد تھی جنہوں نے یمن میں سکونت اختیار کر لی تھی اور عربوں میں شادیاں کی تھیں۔اور فرمایا کہ اس سے فارغ ہو کر کندہ کے مقابلے کے لیے حضر موت چلے جائیں۔حضر موت بھی یمن کا ایک علاقہ ہے۔چوتھے حضرت خالد بن سعید بن عاص کے لیے جھنڈ اباندھا اور ان کو حمقتین کی طرف بھیجاجو شام کی سرحد پر ہے۔5 پانچویں حضرت عمرو بن عاص کے لیے جھنڈا باندھا اور ان کو قُضَاعَه وَدِيْعَہ اور حَارِث کی جمعیتوں کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا۔6 چھٹا جھنڈا حضرت حذیفہ بن مِحْصَن غَلْفَانی کے لیے باندھا اور ان کو اہل دبا کی طرف جانے کا حکم دیا۔دبا بھی عمان میں عربوں کا ایک بازار تھا۔عمان کا ایک قدیم اور مشہور شہر تھا۔مارکیٹ لگا دیا۔کتا بھی میں کرتی تھی۔۔7 ساتواں حضرت عرفجہ بن هر قمہ کے لیے جھنڈ ا باندھا اور ان کو مَهْرَہ جانے کا حکم دیا۔مہرہ یمن کے ایک علاقے کا نام ہے۔حضرت ابو بکر نے ان دونوں کو فرمایا کہ ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں مگر جو