اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 168
محاب بدر جلد 2 168 حضرت ابو بکر صدیق میں بھی آپ کو فتح اور نصرت حاصل ہوئی اور تمام بگڑے ہوئے لوگ راہ حق کی طرف لوٹ آئے۔6 حضرت ابو بکر کے زمانہ کے فتنے ارتداد و بغاوت 436 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی تصنیف سر الخلافہ میں بیان فرماتے ہیں کہ : ابن خلدون نے لکھا ہے ” عرب کے عوام و خواص مرتد ہو گئے اور بنو کلے اور بنو اسد طلیحہ کے ہاتھ پر جمع ہو گئے اور بنو غطفان مرتد ہو گئے۔اور بنو ہوازن متر ڈر ہوئے اور انہوں نے زکوۃ دینی روک دی۔نیز بنو سلیم کے سردار مرتد ہو گئے اور اسی طرح ہر جگہ پر باقی لوگوں کا بھی یہی حال تھا۔“ ابنِ اثیر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ۔۔۔عرب مرتد ہو گئے۔ہر قبیلہ میں سے عوام یا خواص اور نفاق ظاہر ہو گیا اور یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی گرد نہیں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا۔اور مسلمانوں کی اپنے نبی کی وفات کی وجہ سے، نیز اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کے باعث ایسی حالت ہو گئی تھی جیسی بارش والی رات میں بھیڑ بکریوں کی ہوتی ہے یعنی خوف سے ایک جگہ اکٹھی ہو جاتی ہیں اور پناہ تلاش کرتی ہیں۔” اس پر لوگوں نے ابو بکر سے کہا کہ یہ لوگ صرف اسامہ کے لشکر کو ہی مسلمانوں کا لشکر سمجھتے ہیں۔اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں عربوں نے آپ سے بغاوت کر دی ہے پس مناسب نہیں کہ آپ مسلمانوں کی اس جماعت کو اپنے سے الگ کر لیں۔اس پر (حضرت) ابو بکر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر مجھے اس بات کا یقین بھی ہو جائے کہ درندے مجھے اچک لیں گے تب بھی میں رسول اللہ صلی علیم کے حکم کے مطابق اسامہ کے لشکر کو ضرور بھیجوں گا۔جو فیصلہ رسول اللہ صلی الله یم نے فرمایا ہے میں اسے منسوخ نہیں کر سکتا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عبد اللہ بن مسعود کا حوالہ دے کے فرماتے ہیں کہ : عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیکم کی وفات کے بعد ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے تھے کہ اگر اللہ ہم پر ابو بکر کے ذریعہ احسان نہ فرماتا تو قریب تھا کہ ہم ہلاک ہو جاتے۔آپ نے ہمیں اس بات پر اکٹھا کیا کہ ہم بنت مخاض “ یعنی ”ایک سالہ اونٹنی) اور بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) کی (زکوۃ کی وصولی کے لئے ) جنگ لڑیں اور یہ کہ ہم عرب بستیوں کو کھا جائیں اور ہم اللہ کی عبادت کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ موت ہمیں آئے۔کیا اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے؟ 437" یہ جو بحث چل رہی ہے اس میں بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے ؟ اس بارے میں مختصر بیان کر دیتا ہوں۔نبی کریم صلی یکم کی وفات کے بعد جب تقریباً سارے عرب نے ارتداد اختیار کر لیا اور بعض لوگوں