اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 162
اصحاب بدر جلد 2 162 حضرت ابو بکر صدیق منکرین زکوۃ پر فتح پانے اور حضرت ابو بکڑ کی شجاعت اور عزم کا ذکر کرتے ہوئے عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں۔ان کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ یکم کے وصال کے بعد ہم اس مقام پر کھڑے تھے کہ اگر اللہ ابو بکر صدیق کے ذریعہ سے ہماری مدد نہ فرماتا تو ہلاکت یقینی تھی۔ہم سب مسلمانوں کا اتفاق کامل سے یہ خیال تھا کہ ہم زکوۃ کے اونٹوں کی خاطر دوسروں سے جنگ نہیں کریں گے اور اللہ کی عبادت میں مصروف ہو جائیں گے یہاں تک کہ ہمیں مکمل غلبہ حاصل ہو جائے لیکن ابو بکر صدیق نے منکرین زکوۃ سے لڑنے کا عزم کر لیا۔انہوں نے منکرین کے سامنے صرف دو باتیں پیش کیں، تیسری نہیں۔پہلی یہ کہ وہ اپنے لیے ذلت و خواری قبول کر لیں اور اگر یہ منظور نہیں تو جلا وطنی یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔اپنے لیے ذلت و خواری قبول کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اقرار کریں کہ ان کے مقتول دوزخی اور ہمارے جنتی ہیں وہ ہمیں ہمارے مقتولوں کا خون بہا ادا کریں۔ہم نے جو مالِ غنیمت ان سے وصول کیا اس کی واپسی کا مطالبہ نہ کریں لیکن جو مال انہوں نے ہم سے لیا ہے وہ ہمیں واپس کر دیں۔اور جلاوطنی کی سزا بھگتنے کا مطلب یہ ہے کہ شکست کھانے کے بعد اپنے علاقوں سے نکل جائیں اور دور دراز مقامات میں جاکر زندگی بسر کریں۔426 حضرت مصلح موعود اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی ایم کی وفات کے بعد جب بعض قبائل عرب نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس وقت حالت ایسی نازک تھی کہ حضرت عمرؓ جیسے انسان نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے نرمی کرنی چاہئے مگر حضرت ابو بکر نے جواب دیا۔“ اس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دیا ہے۔خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ رسول کریم صلی علی یلم کے زمانہ میں اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے تو میں رسی بھی ان سے لے کر رہوں گا اور اس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک وہ زکوۃ ادا نہیں کرتے۔“ آپ نے ساتھیوں کو کہا ”اگر تم اس معاملہ میں میر اساتھ نہیں دے سکتے تو بے شک نہ دو۔میں اکیلا ہی ان سے مقابلہ کروں گا۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : ”کس قدر اتباع رسول ہے کہ نہایت خطرناک حالات میں باوجود اس کے کہ اکابر صحابہ لڑائی کے خلاف مشورہ دیتے ہیں پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر قسم کا خطرہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔احمدیوں کو یا در کھنا چاہیے کہ زکوۃ کتنی ضروری ہے پھر حضرت مصلح موعودؓ نے ایک اور جگہ لکھا ہے، بیان فرمایا ہے کہ ”حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب فتنہ ارتداد پھیل گیا اور صرف گاؤں میں نماز با جماعت رہ گئی اور لشکر بھی شام کو بھیج دیا گیا تو بھی آپ نے زکوۃ دینے والوں کے نام ارشاد بھیجا کہ رسول اللہ کے زمانے میں اگر کوئی رسہ دیتا تھا اور اب 427"