اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 156
حاب بدر جلد 2 156 حضرت ابو بکر صدیق۔۔۔۔۔۔بغاوت اور مستوجب سزا ہے۔اسی طرح زکوۃ کی عدم ادائیگی بھی۔حضرت عمر نے پہلے حضرت ابو بکر سے اتفاق نہیں کیا مگر جب الا بحقہ کے الفاظ سے ان کا استدلال سنا تو ان کی رائے تسلیم کی۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دینا عمل صالح نہ ہونے کی حالت میں قطعاً کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اس باب کا عنوان یہ آیت ہے فَإِنْ تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَ اتَوُا الزَّكوة فَخَلُّوا سَبِيلَهُم اس سورت میں مذکورہ بالا آیت کا مضمون دہراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَانْ تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكوة فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ یعنی اگر توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں ان سے تعارض نہ کیا جائے۔ان الفاظ سے ثابت ہو تا ہے کہ ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ترک کرنے والا مسلمان نہیں۔اسلام کے پانچوں ارکان کی پابندی فرض ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ تم نے بھی إِلَّا يحقہ فرما کر انفاق فی سبیل اللہ کو معاشرہ کے کمزور طبقے کا حق قرار دیا ہے۔یعنی ذی استطاعت لوگوں کا فرض ہے کہ احکام اسلامی کی پابندی کریں اور جو مالی حق ان پر عائد کیا گیا ہے وہ ادا کریں۔اس صورت میں ان کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے۔الا بتحقہ کے الفاظ سے حضرت ابو بکر کا استدلال عمیق اور وسیع نظر پر دلالت کرتا ہے۔حضرت ابو بکر کے نزدیک زکوۃ کی عدم ادائیگی بغاوت ہے اور زکوۃ نہ دینے والا معاشرہ اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا اور یہ کہ اس کی اس بغاوت پر اس سے جنگ کرنا ضروری ہے۔بیشک اسلام نے لا اکراہ فی الدِّينِ (دین میں کوئی جبر نہیں) کے ارشاد سے دین کے بارے میں آزادی دی ہے مگر جو فرد بظاہر اسلام کا دعویدار ہے اور اسلامی سوسائٹی میں شامل ہو کر اس کی پناہ میں ہے اور اس کی برکات سے مستفید اور اپنے اجتماعی حقوق سے پورے طور پر متمتع ہے مگر جو فرائض اور واجبات اسلام نے بحیثیت اسلامی معاشرہ کے فرد ہونے کی حیثیت سے اس پر عائد کیے ہیں ان کو وہ ادا نہیں کرتا تو ایسا فرد اجتماعی حفاظت اور پناہ کا حق نہیں رکھتا۔دنیا میں کوئی حکومت بھی قانون شکن اور باغی افراد کو برداشت نہیں کرتی۔اسلامی نظام زکوۃ و صدقات کا تعلق دراصل معاشرہ سے ہے نہ کسی ایک فرد سے۔اور اس کے نتائج اور اثرات کا تعلق بھی معاشرہ ہی سے ہے فرد سے نہیں۔4134 ایک روایت کے مطابق اس موقع پر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کے ساتھ تالیف قلب اور نرمی کا سلوک کریں۔اس پر حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ جاہلیت میں تو تم بڑے بہادر تھے اور اسلام میں اب اس طرح بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔414 تاریخ طبری میں یوں بیان ہوا ہے۔اسد اور غطفان اور طیء قبائل طلیحہ بن خویلد جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس کے ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے سوائے چند خاص لوگوں کے۔قبیلہ اسد کے