اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 144
تاب بدر جلد 2 144 حضرت ابو بکر صدیق دوسرا بڑا کام امت مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرونا دوسر ا بڑا کام یا صدمہ جو پہنچا، اور کس طرح آپ نے اس پر قابو پایا یا انجام دیا۔وہ دوسرا بڑا کام ہے انتخاب خلافت کے وقت امت مسلمہ کو اتفاق کی لڑی میں ، اتحاد کی لڑی میں پرونا۔نبی اکرم صلی ایم کی وفات کے بعد جو ایک دوسر ا ممکنہ خدشہ پیدا ہوا وہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کا اجتماع تھا جہاں ابتدا میں تو گویا یوں لگتا تھا کہ انصار کسی طور سے بھی مہاجرین میں سے کسی کو اپنا امیر یا خلیفہ تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوں گے اور مہاجرین انصار میں سے کسی کو خلیفہ بنانے پر تیار نہ ہوں گے۔اور قریب تھا کہ اختلافی تقریروں سے بڑھ کر بات تلواروں تک جا پہنچتی کہ اس نازک موقع پر حضرت ابو بکر صدیق کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے وہ تاثیر پیدا کی اور دوسری طرف لوگوں کے دلوں کو حضرت ابو بکر کی طرف مائل کیا کہ یہ سارا انتشار اور اختلاف ایک بار پھر محبت و اتحاد میں تبدیل ہو گیا۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی باتوں کے شنوا ہو گئے اور کوئی اختلاف نہ کیا اور سب نے اپنی اطاعت ظاہر کی یہی واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیش آیا اور سب نے آنحضرت صلی کم کی جدائی میں آنسو بہا کر دلی رغبت سے حضرت ابو بکر کی خلافت کو 375" قبول کیا۔لشکر اسامہ کی روانگی 376 تیسری اہم بات، اور ایسا فتنہ جس کو سنبھالنا بڑا ضروری تھا۔حضرت ابو بکر نے اس کو کس طرح سر انجام دیا اور وہ بات تھی لشکر اسامہ کی روانگی۔رسول اللہ صلی المی کریم نے یہ لشکر شام کی سرحد پر رومیوں سے جنگ کے لیے تیار کیا تھا۔جنگ موتہ اور غزوہ تبوک کے بعد آپ صلی علی کی کو خدشہ پید اہوا کہ کہیں اسلام اور مسیحیت کے بڑھتے ہوئے اختلاف اور یہود کی فتنہ انگیزی کے باعث اہل روم عرب پر حملہ نہ کر دیں۔جنگ موتہ میں حضرت زید حضرت جعفر حضرت عبد اللہ بن رواحہ مسلمانوں کے تین امیر یکے بعد دیگرے شہید ہوئے۔موتہ اردن کے مشرق میں ایک زرخیز زمین میں واقع ایک شہر ہے۔بہر حال اس بارے میں حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ : نبی کریم صلی علیم نے لوگوں کو حضرت زید ، حضرت جعفر اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی موت کی خبر دی پیشتر اس کے کہ لوگوں کے پاس اس سے متعلق کوئی خبر آئی۔آپ صلی للہﷺ نے فرمایا: زید نے جھنڈ ا لیا اور وہ شہید ہوا۔پھر جعفر نے پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گیا۔پھر ابن رواحہ نے جھنڈے کو پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔اور آپ کی آنکھیں آنسو بہارہی تھیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد بن ولید نے جھنڈ الیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے ان مخالفین پر فتح دی۔7 377