اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 133

باب بدر جلد 2 133 حضرت ابو بکر صدیق اور آپ نے انہیں بتایا کہ دیکھو! دو خلیفوں والی بات غلط ہے۔تفرقہ سے اسلام ترقی نہیں کرے گا۔خلیفہ بہر حال ایک ہی ہو گا۔اگر تم تفرقہ کروگے تو تمہارا شیرازہ بکھر جائے گا، تمہاری عزتیں ختم ہو جائیں گی اور عرب تمہیں تکا بوٹی کر ڈالیں گے۔تم یہ بات نہ کرو۔بعض انصار نے آپ کے مقابل پر دلائل پیش کرنے شروع کئے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے خیال کیا کہ حضرت ابو بکر کو تو بولنا نہیں آتا میں انصار کے سامنے تقریر کروں گا لیکن جب حضرت ابو بکر نے تقریر کی تو آپ نے وہ سارے دلائل بیان کر دیئے جو میرے ذہن میں تھے۔“ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جو میرے ذہن میں تھے۔”اور پھر اس سے بھی زیادہ دلائل بیان کئے۔“ کہتے ہیں ” میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ آج یہ بڑھا مجھ سے بڑھ گیا ہے۔آخر اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ خود انصار میں سے بعض لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا حضرت ابو بکر جو کچھ فرمار ہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔مکہ والوں کے سوا عرب کسی اور کی اطاعت نہیں کریں گے۔پھر ایک انصاری نے جذباتی طور پر کہا اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اپنا ایک رسول مبعوث فرمایا۔اس کے اپنے رشتہ داروں نے اسے شہر سے نکال دیا تو ہم نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی اور خد اتعالیٰ نے اس کے طفیل ہمیں عزت دی۔ہم مدینہ والے گمنام تھے، ذلیل تھے مگر اس رسول کی وجہ سے ہم معزز اور مشہور ہو گئے۔اب تم اس چیز کو جس نے ہمیں معزز بنایا کافی سمجھو اور زیادہ لالچ نہ کر وایسا نہ ہو کہ ہمیں اس کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔اس وقت حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ دیکھو ! خلافت کو قائم کرناضروری ہے باقی تم جس کو چاہو خلیفہ بنالو۔مجھے خلیفہ بننے کی کوئی خواہش نہیں۔آپ نے فرمایا یہ ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔ان کو رسول کریم صلی اللہ ہم نے امین الامت کا خطاب عطا فرمایا ہے تم ان کی بیعت کر لو۔پھر عمر نہیں یہ اسلام کے لئے ایک تنگی تلوار ہیں تم ان کی بیعت کر لو۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: ابو بکر ! اب باتیں ختم کیجئے۔ہاتھ بڑھائیے اور ہماری بیعت لیجئے۔حضرت ابو بکر کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ نے جرات پیدا کر دی اور آپ نے بیعت لے لی۔سقیفہ بنی ساعدہ کی بیعت عام کے بارے میں مزید لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اینم کی وفات سوموار کو ہوئی۔لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابو بکر صدیق کی بیعت میں مشغول ہو گئے۔پھر سوموار کے بقیہ دن اور منگل کی صبح کو مسجد میں بیعت عام ہوئی۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب سقیفہ بنی سَاعِدہ میں بیعت ہو گئی تو دوسرے دن حضرت ابو بکر صدیق نبیٹھے تو حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو بکر سے قبل تقریر کی۔آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔پھر کہا اے لوگو ! کل میں نے تم سے ایسی بات کی تھی یعنی یہ کہ آنحضرت صلی این تیم فوت نہیں ہوئے۔میں نے اس کا ذکر کتاب اللہ میں کہیں نہیں پایا اور نہ ہی نبی کریم صلی علیم نے مجھے اس کی وصیت فرمائی تھی لیکن میں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی الکل ضرور ہمارے معاملے کا انتظام کریں گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے کہا ہمارا خیال تھا کہ ہم پہلے فوت ہو جائیں گے اور آنحضرت صلی علیہ کم ہم میں سے آخری ہوں گے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے جس سے 357"