اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 129
اصحاب بدر جلد 2 129 حضرت ابو بکر صدیق دونوں نے انصار کے عزائم سے ان کو مطلع کیا۔پھر سوال کیا۔آپ لوگ کہاں جارہے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ان دونوں نے کہا ان کے پاس جانا ضروری نہیں آپ لوگ خود معاملہ طے کر لیں۔کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم ضرور ان کے پاس جائیں گے۔347 بہر حال وہ گئے۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم انصار کے پاس پہنچے۔میں نے اپنے دل میں کچھ کہنے کے لیے ایک مضمون سوچا تھا کہ انصار کے سامنے اسے بیان کروں گا۔پس جب میں ان کے پاس پہنچا اور بات شروع کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر حضرت ابو بکڑ نے مجھ سے کہا ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ میں بات کرلوں۔اس کے بعد جو تمہارا جی چاہے بیان کرنا۔پھر حضرت ابو بکر نے بولنا شروع کیا اور جو بات میں کہنا چاہتا تھا وہ حضرت ابو بکر نے بیان کر دی بلکہ اس سے بھی زیادہ آپ نے کہہ دیا۔348 سقیفہ بنو ساعدہ میں حضرت ابو بکر کی تقریر حضرت ابو بکر نے جو تقریر کی تھی اس کا مختصر ذکر یہ ہے۔عبد اللہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے تقریر شروع کی۔اللہ کی حمد وثنا کے بعد کہا یقینا اللہ نے اپنی مخلوق کی طرف محمد صلی الیم کو رسول اور اپنی امت کا نگران بنا کر بھیجا تا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کی توحید کا اقرار کریں حالا نکہ اس سے پہلے وہ اللہ کے سوا مختلف معبودوں کی عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ معبود اللہ کے حضور ان کی شفاعت کرنے والے اور نفع پہنچانے والے ہیں حالانکہ وہ پتھر سے تراشے گئے تھے اور لکڑی سے بنائے جاتے تھے۔پھر حضرت ابو بکر نے یہ آیت پڑھی کہ وَ يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلاء شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللهِ (یونس: 19) اور وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے حضور ہماری شفاعت کرنے والے ہیں۔مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلفی (الزمر ) کہ ہم اس مقصد کے سوا ان کی عبادت نہیں کرتے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہوئے قرب کے اونچے مقام تک پہنچا دیں۔عربوں کو یہ بات گراں گزری کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کر دیں۔حضرت ابو بکر نے یہ آیتیں پڑھ کے فرمایا کہ عربوں کو یہ بات گراں گزری کہ وہ اپنے آباء واجداد کے دین کو ترک کر دیں۔پس اللہ نے آپ صلی علیہم کی قوم میں سے اولین مہاجرین کو رسول کریم صلی میں کمی کی تصدیق کے لیے اور آپ صلی علیہ ظلم پر ایمان لانے کے لیے اور آپ صلی اغلی یم کی غمگساری کے لیے اور آپ صلی امید کم کے ساتھ اپنی قوم کی سخت ایذا رسانی اور تکذیب کے وقت ڈٹے رہنے کے لیے خاص کر لیا۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: حالا نکہ تمام لوگ ان کے مخالف تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے مگر باوجود اپنی کم تعداد کے اور تمام لوگوں کے ظلم اور اپنی قوم کے ان کے خلاف اکٹھے ہو جانے کے وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔اور وہ پہلے تھے جنہوں نے زمین