اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 90

صحاب بدر جلد 2 90 حضرت ابو بکر صدیق ہے۔یہ جذبات سن کر آپ صلی اللی کم بہت خوش ہوئے۔رسول اللہ صلی علی کریم کو جب اس بات کی خبر ملی یعنی کہ ابوسفیان وغیرہ کے لشکر کی تیاری کے بارے میں تو آپ صلی ا لم نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو اپنے پیچھے مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔ایک روایت کے مطابق عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی بن سلول کو امیر مقرر فرمایا اور اپنا جھنڈ ا حضرت علی کو عطا فرمایا اور مسلمانوں کے ہمراہ بدر کی جانب روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ پندرہ سو مسلمان تھے۔مسلمانوں نے بدر کے مقام پر لگنے والے میلے میں خرید و فروخت کی اور تجارت میں کافی نفع کمایا اور آٹھ روز قیام کرنے کے بعد واپس مدینہ آگئے۔245 وہ میلہ جو وہاں لگا ہوا تھا مسلمانوں نے پھر اس میں تجارت بھی کی کہ اگر جنگ ہوئی تو وہ تو ہونی ہے لیکن اگر نہیں ہوتی تو کم از کم تجارت وہاں ہو جائے اور اس سے مسلمانوں کو بڑا فائدہ ہوا۔غزوہ احد میں ابو سفیان نے مسلمانوں کو اگلے سال دوبارہ ملنے کا جو چیلنج دیا تھا اس کی مزید تفصیل بھی ہے اور یہ تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھی ہے۔لکھتے ہیں کہ غزوہ احد کے بعد ”میدان سے لوٹتے ہوئے ابوسفیان نے مسلمانوں کو یہ پینج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر کے مقام پر ہماری تمہاری جنگ ہو گی اور آنحضرت صلی الم نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔اس لئے دوسرے سال یعنی چار ہجری میں جب شوال کے مہینہ کا آخر آیا تو آنحضرت صلی للی کم ڈیڑھ ہزار صحابہ کی جمعیت کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے اور آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کو امیر مقرر فرمایا۔دوسری طرف ابوسفیان بن حرب بھی دو ہزار قریش کے لشکر کے ساتھ مکہ سے نکلا مگر باوجود احد کی فتح اور اتنی بڑی جمعیت کے ساتھ ہونے کے اس کا دل خائف تھا اور اسلام کی تباہی کے درپے ہونے کے باوجود وہ چاہتا تھا کہ جب تک بہت زیادہ جمعیت کا انتظام نہ ہو جاوے وہ مسلمانوں کے سامنے نہ ہو۔چنانچہ ابھی وہ مکہ میں ہی تھا کہ اس نے ایک شخص نعیم نامی کو جو ایک غیر جانبدار قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا مدینہ کی طرف روانہ کر دیا اور اسے تاکید کی کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اور جھوٹ سچ باتیں بنا کر جنگ سے نکلنے کے لئے باز رکھے۔چنانچہ یہ شخص مدینہ میں آیا اور قریش کی تیاری اور طاقت اور ان کے جوش و خروش کے جھوٹے قصے سنا سنا کر اس نے مدینہ میں ایک بے چینی کی حالت پیدا کر دی۔حتی کہ بعض کمزور طبیعت لوگ اس غزوہ میں شامل ہونے سے خائف ہونے لگے لیکن جب آنحضرت صلی الیم نے نکلنے کی تحریک فرمائی اور آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم نے کفار کے چینج کو قبول کر کے اس موقع پر نکنے کا وعدہ کیا ہے اس لئے ہم اس سے تخلف نہیں کر سکتے اور خواہ مجھے اکیلا جانا پڑے میں جاؤں گا اور دشمن کے مقابل پر اکیلا سینہ سپر ہوں گا تو لوگوں کا خوف جاتارہا اور وہ بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ آپ کے ساتھ نکلنے سپر گا کاخوف اور وہ کو تیار ہو گئے۔بہر حال آنحضرت صلی الی و کم ڈیڑھ ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور دوسری طرف ابوسفیان اپنے دو ہزار سپاہیوں کے ہمراہ مکہ سے نکلا لیکن خدائی تصرف کچھ ایسا ہوا کہ مسلمان تو بدر میں اپنے وعدہ پر پہنچ گئے مگر قریش کا لشکر تھوڑی دور آکر پھر مکہ کو واپس لوٹ گیا اور اس کا قصہ یوں ہوا کہ جب ابوسفیان کو نعیم کی ناکامی کا علم ہوا تو وہ دل میں خائف ہوا اور اپنے لشکر کو یہ تلقین کرتا ہوا راستہ سے