اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 79 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 79

۷۹ اور دراصل اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے بغیر ان کے اس پوشیدہ جال سے بیچ نکلنا مشکل تھا۔والد صاحب کا معاہدہ میرے پاس موجود تھا ان کی خلاف معاہدہ کا رروائی چوہدری صاحب کی ساری دلیلوں کے لئے عصائے موسوی کا حکم رکھتی تھی۔اس طریق کو نا کام ہوتے دیکھ کر اب انہوں نے مصلحت آمیز لباس اتار کے اپنا باطن ظاہر کیا اور بحث و مباحثہ کا رنگ اختیار کر لیا۔اور عیسائی اور آریہ معاندین کے بودے ہتھیاروں سے مجھ پر حملہ آور ہوئے۔عبداللہ آتھم کی پیشگوئی اور لیکھرام کے مباہلہ کو بار بار پیش کر کے غالب آنے کی کوشش کی لیکن میں حضرت اقدس کی پر نور تصنیفات کے مطالعہ کے باعث ان کو دندان شکن جواب دیتا جس سے چوہدری صاحب کو اپنی کم علمی اور مغلوبیت کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہ رہا۔اور آخر فیصلہ لیکھرام والی پیشگوئی پر منحصر ٹھہرا۔جس کے پورے ہونے کا ابھی انتظار تھا۔بالآخر انہوں نے اپنا آخری اور اوچھا ہتھیار نکالا اور میری غیرت کو چیلنج کیا۔جذبات کو اپیل کی۔اور تانبے ، پیتل اور کانسی کے برتنوں مٹی کے لوٹے پھوٹے اور کنالیوں کے طعن دینے شروع کئے۔کہیں مسلمانوں کی موجودہ بد عملی ، خستہ حالی اور افلاس وغربت کے تذکرے اور ہند واقوام کی بڑائی اور مالی برتری کے افسانے سنا سنا کر مجھے جوش دلانے کی کوشش کی اور کبھی خاندانی شوکت وسطوت اور بڑے بوڑھوں کے کارنامے سنا سنا کر شرم دلانے کی راہ اختیار کی اور انجام کار جب دیکھا کہ ان کے سارے حیلے بے اثر اور سارے حربے بے کا رر ہے تو یہ کہتے ہوئے مجھ سے رخصت ہو گئے کہ ٹیاں یا ہیں گل نوں ای آندیاں ہیں۔یعنی مسلمانوں نے جو سبز باغ تمہیں دکھلا کر ورغلایا ہے چند روز میں ان کی حقیقت تم پر کھل جائے گی۔تب تمہاری آنکھیں کھلیں گی ابھی چونکہ نئے نئے اس جال میں پھنسے ہو۔آؤ بھگت ہو رہی ہے زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ یہ نشہ اتر جائے گا اور تم سمجھو گے کہ کسی خیر خواہ کی نصیحت کو کس طرح رد کیا اور ٹھکرایا تھا دیکھو پھر کہتا ہوں کہ ڈلیاں بیراں دا اجے وی کچھ نہیں گیا۔‘مان لو۔بھلا ہوگا۔ورنہ پچھتاؤ گے۔میرے مکرم ایسے ہی الفاظ کہتے ہوئے مجھ سے جدا ہونے کو کھڑے ہو گئے۔اگر چہ میرا دل نرم تھا اور ان کے ادب کا بھی مجھے پاس تھا مگر ان کے آخری حملہ کو بے جواب چھوڑنے کو میں نے بے غیرتی اور دون ہمتی یقین کرتے ہوئے خاموش رہنا برداشت نہ کیا۔اور جاتے جاتے مخاطب کر کے بصد ادب عرض کر ہی دیا کہ اگر یہ دل صرف اور صرف خدا کے لئے آپ لوگوں سے جدا ہوا ہے تو یقینا وہ ان بازوؤں کو نہ ٹوٹنے