اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 78 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 78

ZA کے منصوبے ہوتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نا کام کر کے مجھے اپنی حفاظت میں رکھا۔ورنہ ان کا حملہ اپنی شدت اور تنظیم کے لحاظ سے اتنا سخت اور اتنی گہری سازش کا نتیجہ تھا کہ ان کو نا کامی کا وہم تک نہ تھا۔ریٹائرڈ رسالدار ہونے کی وجہ سے تدبیر اور تجربہ کی پختگی بھی تھی اور اسی زعم میں وہ گھر سے بہت بڑا بول بول کر نکلے تھے۔اور اپنے ساتھی مسلمان چوہدریوں کی ہمت اور حسن تدبیر پر بھی ان کو بڑا ناز تھا۔اور قادیان کے لوگوں کی بھی امدا د اور وعدوں نے گویا کامیابی کو بالکل سامنے لاکھڑا کیا تھا۔چچا صاحب نا کام ہوکر والد صاحب کے پاس نہیں گئے۔بلکہ سید ھے اپنے گھر چلے گئے اور ان کے ساتھی مسلمانوں سے والد صاحب کو حالات کا علم ہوا۔اس دفعہ کی ساری تدبیر دراصل ہماری برادری کی سب سے پہلی مد تھی۔ان حالات کا علم ہو کرا قارب نے رنگارنگ کے حیلے سوچنے شروع کئے۔کسی نے نرمی سے کسی نے جھوٹے مقدمات سے، کسی نے سسرال کو اکسا کر قانونی چارہ جوئی کرانے کے ذریعہ حملہ کرنے کی تجویز کی اور جوں جوں ان لوگوں کو ناکامی ہوئی۔توں توں وہ گھناؤنی سازشوں اور ناجائز وسائل کی طرف جھکتے گئے۔اور ننگ وناموس کی بربادی کے خیال سے جوش انتقام میں بڑھتے گئے۔لیکن حسب فرمان الہی کہ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَنِ كَانَ ضَعِيفًا - ان کے سارے منصوبے ناکام ہو کر ان کے اموال کے ضیاع اور دلوں کے حسد کا موجب بن گئے۔اقارب کی ایک اور کوشش ناکام متاع اسلام کو چھیننے کی خاطر دوسرا حملہ اقارب میں سے چوہدری نتھو رام زمیندار موضع جاپو وال متصل گورداسپور کے ذریعہ کیا گیا۔جو اپنی شیریں کلامی نرم طبیعت اور پر حکمت خصلت کے باعث برادری میں مسلم تھے۔اور خیالات کی پختگی اور مذہبی معلومات کی وسعت کے لحاظ سے بہت ہوشیار تھے۔چنانچہ وہ رخصت حاصل کر کے قادیان پہنچے اور میری طبیعت کا مطالعہ کر کے دو دن نہایت محبت کے رنگ میں میرے ساتھ گفتگو میں مصروف رہے۔اول ان کی توجہ اس امر پر مبذول رہی کہ مجھے اسلامی احکام یاد کرا کے والدین واقارب کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ اخلاق کی پابندی کرنے کی تاکید کریں اور میرے جذبات کو ابھار کر مجھ سے صرف یہ مطالبہ کرتے کہ جس صداقت کو تم نے قبول کر لیا ہے بیشک اسی پر قائم رہو۔لیکن خونی تعلقات کو قطع نہ کرو اور والدین کی اطاعت کر کے ان کو خوش کرو۔ورنہ تمہارا اسلام بھی قبول نہیں ہوگا۔میرے دوست اور بزرگ پوری نگرانی کرتے تھے اور مناسب جواب سے میری راہنمائی کرتے