اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 44 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 44

۴۴ ३ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایک سکینت اور اطمینان نازل کر دیا اور خدا کے مسیح کے فرمان کی تعمیل کے لئے دل میں قوت و طاقت پیدا ہوگئی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کروں گا۔خواہ جان بھی اس راہ میں کیوں نہ دینی پڑے۔میں یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ والد صاحب بھی تشریف لے آئے۔میں نے ابھی تک کسی سے حضرت کے اس فیصلہ کا ذکر نہ کیا تھا مگر پیغام لانے والے بچے کے ذریعہ سے یہ بات عام ہو چکی تھی اور غالبا میرے والد صاحب کو بھی پہنچ چکی تھی جو کہ قریب ہی ڈپٹی شنکر داس کے مکان پر مقیم تھے۔کیونکہ والد صاحب جب کھانے سے واپس آئے میں نے ان کے چہرہ کو زیادہ بشاش پایا جس سے میں نے محسوس کیا کہ غالبا ان تک یہ فیصلہ پہنچ چکا ہے۔میں نہیں جانتا کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے فیصلے کی تبدیلی کے کیا اسباب ہوئے۔کسی انسان نے کوئی مشورہ دیا یا خود خدائے پاک نے حضور کو پہلے فیصلہ کی تنسیخ کا ایماء والقاء یا الہام فرمایا۔میرا قیاس ہے کہ آخر الذکر امر ہی اس فیصلہ کی تبدیلی کا موجب ہوا ہو گا کیونکہ حضور نے پہلا فیصلہ حالات کے مطالعہ کے بعد ہی فرمایا تھا اور وہ فیصلہ صاف اور ناطق تھا کوئی شرط اس میں نہ تھی اور نہ ہی شبہ کی کوئی گنجائش تھی۔اور میرا ایمان مجھے اسی یقین کی طرف لے جاتا ہے کہ خدا کے پیارے اور بزرگ نبی اپنے فیصلے خدا کے فرمان کے سوا بدلا نہیں کرتے کیونکہ ان کے فیصلے ہر وقت حق و حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی ہوا کرتے ہیں۔بہر حال والد صاحب آئے۔میں نے وہ فرمان ان کو دے دیا۔جس کو پڑھ کر انہوں نے قلم دوات لی اور قلم برداشتہ ایک بہت مضبوط معاہدہ لکھ کر دے دیا۔جو سید نا حضرت اقدس کے الفاظ سے بھی کہیں زیادہ قوی اور حلف سے موکد تھا۔والد صاحب نے بجائے پر میشور کے نام کی سوگند کے الفاظ لکھنے کے شروع ہی ان الفاظ سے کیا کہ: میں فلاں بن فلاں خدائے واحد لاشریک کے نام کی قسم اٹھا کر یہ اقرار کرتا ہوں۔“ وغیرہ وغیرہ والد صاحب کی یہ تحریر پختہ تھی کیونکہ وہ خود خوشنویس اور پکے منشی تھے۔فارسی زبان میں ان کو خاص مہارت تھی جس کی وجہ سے مضمون نویسی اور انشا پردازی کا ملکہ ان میں تھا۔ان کا تحریر کردہ معاہدہ سیدنا حضرت اقدس کے حضور پہنچا۔حضور نے ملاحظہ فرما کر محفوظ کر لیا اور مجھے پھر حکم بھیج دیا کہ تم اب اپنے والد صاحب کے ساتھ چلے جاؤ۔“