اصحاب احمد (جلد 9) — Page 27
۲۷ فرماتے رہے اور یقین کے ہر سہ مدارج کے متعلق کھول کر سنایا۔اور میرے علم میں بہت قیمتی معلومات کا اضافہ فرمایا۔مگر میرے بعض رشتہ دار سیالکوٹ میں پولیس اور دوسرے محکمہ جات میں معز ز عہدوں پر مقرر تھے۔اس لئے اظہار اسلام کے متعلق مجھے یہ مشورہ دیا کہ اندیشہ ہے کہ یہ لوگ روک ڈالیں گے یا شور وشر کر کے فساد برپا کریں گے بہتر ہو کہ قادیان چلے جاؤ۔قادیان کا نام ان کی زبان سے نکلنا تھا کہ میرا دل سرور سے بھر گیا اور مجھے پورا انشراح ہو گیا کیونکہ اب میں قادیان کے نام سے بہت مانوس ہو چکا تھا۔میں نے شاہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔بہت اچھا میں قادیان چلا جاتا ہوں۔شاہ صاحب نے میرے واسطے ایک خط لکھنا شروع کیا۔اور میں دل میں قادیان کا ایک نظارہ بنانے میں مصروف ہو گیا اور اس بات پر خوش تھا۔اس وقت کے خیال کے مطابق قادیان کا نقشہ جو میں نے دل میں تجویز کیا۔مسجد اقصیٰ کو بعینہ اس کے مطابق پایا۔شاہ صاحب نے خط لکھ کر مجھے دیا اور دعا کر کے مجھے رخصت فرمایا اور میں اسی شام کی گاڑی سے تن کے تینوں کپڑے لے کر قادیان روانہ ہو گیا۔کیونکہ میرے خیال کے مطابق وہاں صرف یہی کام تھا۔کہ کوئی بزرگ ہوں گے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر اظہار اسلام کر کے نذرو نیاز چڑھا کر واپس چلا آؤں گا اور پھر کوئی کام کرنے لگوں گا اور یہ خیال تھا کہ وہاں ا ظہا ر ا سلام بطور تبرک ہوگا۔جس روز میں سیالکوٹ سے روانہ ہوا۔جمعرات تھی۔میں بٹالہ اسٹیشن سے اتر کر قادیان کے راستہ کی تلاش میں مصروف ہوا۔آپ شاید تعجب کریں گے اور میرے بیان کو مبالغہ سمجھیں گے کہ مجھے اس وقت بھی بہت مشکلات کا سامنا ہوا۔میں لوگوں سے قادیان کا راستہ پوچھتا۔وہ میرے منہ کو تکتے اور سوچ بچار کر کہتے کہ ” کا دیں تو ایک گاؤں ہے تم جو نام لیتے ہو وہ اس نواح میں تو ہے نہیں۔تھانہ سے پوچھو۔شاید پتہ لگ جائے۔غالبا نو بجے ٹرین بٹالہ پہنچی۔بارہ بج گئے مجھے نہ قادیان کا پتہ ملا نہ راستہ حتی کہ میں گھبرا کر واپس لوٹ جانے کی فکر کرنے لگا۔اسی شش و پنج میں تھا۔کہ ایک شخص میرے قریب آ کر بولا۔جی آپ نے قادیان جانا ہے؟“ میں افسردہ پر مژدہ ہو رہا تھا اور پریشان تھا کہ کروں تو کیا کروں؟ اس شخص کی آواز سے ڈھارس بندھی اور امید کی ایک جھلک نظر آئی۔میں نے اس سے قادیان کا اتا پتا دریافت کیا تو اس نے جواب دیا۔وہی نا۔مرزا صاحب والی قادیان گنوار لوگ اس کو کا دیں۔کا دیں کہہ کے پکارتے ہیں۔میں خود قادیان کا رہنے والا ہوں۔مرزا صاحب گاؤں کے رئیس اور مالک ہیں۔میں آپ کو ان کے دورازہ پر جا اتاروں گا۔“