اصحاب احمد (جلد 9) — Page 28
۲۸ یہ یکہ بان غالباً غفارہ کشمیری تھا۔اس تسلی کے بعد میں اس کے یکہ میں بیٹھ گیا۔دو آ نے کرایہ مقرر ہوا۔وہ مجھ سے یہ کہہ کر بازار کو گیا کہ گھوڑے کے واسطے نہاری لے آؤں۔مگر کچھ ایسا گیا کہ لوٹنے کا نام ہی نہ لیا۔کم و پیش ایک گھنٹہ میں اس یکہ میں ٹنگا رہا۔نہ اس کو چھوڑ سکوں نہ یکہ بان کی تلاش کر سکوں۔جمعہ کا دن تھا۔میں نے سیالکوٹ سے روانگی میں اسی غرض سے جلدی کی تھی کہ جمعہ کی نماز میں شریک ہو کر اس برکت سے حصہ پاسکوں گا مگر یکہ بان کی طمع نے مجھے نماز جمعہ میں شرکت کی برکت سے محروم رکھا۔کیونکہ وہ دراصل نہاری کی بجائے سواری کی تلاش میں تھا۔چنانچہ دو اور ہندو سواریوں کے ساتھ میں قادیان پہنچا۔اس نے مجھے ریتی چھلہ کی طرف جدھر بڈھے شاہ کی دکانات ہیں اتارا۔میری شکل و شباہت چونکہ ابھی ہندوانہ تھی۔لہذا بازار کے لوگ جب میں ان سے مرزا صاحب کے مکان کا پتہ دریافت کرتا تعجب کرتے اور مجھے پکڑ کر بٹھا لیتے۔اور غرض و غایت اور مقصد دریافت کرنے کے درپے ہو جاتے۔چنانچہ بڑھے شاہ کی سہ منزلہ دکانات سے لے کر جو ہند و بازار کے شمالی سرے پر ہیں چوک تک جو اس بازار کے جنوبی سرے پر مسجد اقصی کے قریب ہے پہنچتے پہنچتے مجھے دس جگہ روکا گیا ہوگا۔جہاں سے میں کسی نہ کسی طرح دامن چھڑا کر آگے ہی آگے چلتا گیا۔سارے ہند و بازار میں چرچا ہو گیا اور جابجا باتیں ہونے لگیں لوگوں نے مجھے روکنے میں پورا زور صرف کیا اور بعض تو ہاتھ پکڑ کر بیٹھ رہتے تھے مگر میں جان گیا کہ یہ لوگ روکنا چاہتے ہیں۔آخر زور سے پلہ چھڑا چھڑا کر خدا خدا کر کے چوک میں پہنچا جہاں میاں علی بخش اور نبی بخش دو بھائیوں کی عطاری کی دوکان تھی اس سے دریافت کیا تو انہوں نے راستہ بتا یا ور نہ ہند و کسی ایک نے بھی مرزا صاحب کے مکان کا راستہ نہ بتایا تھا۔بھائی جی فرماتے ہیں کہ علی بخش نبی بخش صاحبان کی دکان مسجد اقصیٰ کے ملحق شمال کی طرف تھی۔حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ فاضل (امیر مقامی قادیان) نے بتایا کہ علی بخش صاحب مرحوم حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانے میں ہی احمدی ہو گئے تھے اور بہت مخلص تھے لیکن نبی بخش صاحب افسوس ہے کہ احمدی نہیں ہوئے تھے۔نبی بخش صاحب میاں خیر الدین صاحب مرحوم وثیقہ نویس کے والد تھے۔میاں خیر الدین صاحب بحمد الله تقسیم ملک کے بعد احمدی ہو گئے تھے اور عبادت گزاری اور اخلاق کا انہوں نے ایک عجیب نمونہ دکھایا تھا۔چار پانچ سال ہوئے وفات پاچکے ہیں۔