اصحاب احمد (جلد 9) — Page 400
۴۰۰ کا جنازہ قادیان نہ آسکا۔اور اس کرامت کا ایک خاص نشان یہ بھی ہے۔کہ آپ کی اہلیہ محترمہ کا ویزا ایک ماہ سے ختم تھا ان کو بھی اس کا علم نہ تھا۔وہ جنازہ کے ساتھ قادیان آئیں اور پھر واپس گئیں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ آپ کا جنازہ قادیان پہنچ سکا۔الحمد لله ثم الحمد لله۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ترین دفن ہوں۔قطعہ خاص صحابہ میں آپ کی قہر والی جگہ سے اور کوئی جگہ قریب ترین نہ تھی۔۱۹۵۲ء میں آپ کی خواہش پیش ہونے پر سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ذیل کے مبارک الفاظ میں اجازت عنایت کی: اللہ تعالی لمبی عمر عطا فرما دے۔مگر جب بھی وفات ہو وہاں دفن کیا جاوے۔“ مرز امحمود احمد ( فائل وصیت ) آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل پر اس جگہ دفن ہونے کا بہت یقین تھا۔( چوہدری محمد اسمعیل صاحب خالد مینجر احمد آباد، سندھ نے گذشتہ جلسہ سالانہ پر اس جگہ بیٹھے دیکھا۔آپ نے فرمایا کہ یہ میری قبر کی جگہ ہے۔الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۶۱ ء ) اللہ تعالیٰ نے انا عند ظن عبدی بی کا ایک عجیب نظارہ دکھایا۔اور حضرت مسیح موعود کی بات پھر ایک دفعہ نہایت شان کے ساتھ پوری ہوئی کہ ہمارا ہے تو آ جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا۔ان کی اجابت کا کسی کو انکار نہیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرتے ہیں: اے میرے آقا و مالک اور میرے ہادی و رہنما ! جس طرح تو نے خود اپنے ہاں اپنے ہی ہاتھ سے مجھ ناکارہ انسان، انسان نہیں انسانوں کی بھی عار بلکہ محض ایک کرم خاکی کو بچپن اور کم عمری میں نوازا۔اور خود میرے دل میں تخم ایمان بو کر اس کی آبیاری فرمائی۔اسے پودا بنایا اور ہر قسم کی بادصر صر اور مخالف ہواؤں سے محفوظ رکھتے ہوئے وحوش او درندوں کی پامالی سے بچا کر اس باغ احمد میں پہنچایا اور اس گلستان میں اپنے محض فضل سے ایسی جگہ دلائی جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتی تھی اور جہاں میرے خواب و خیال کو بھی رسائی نہ تھی۔اے میرے پیارے اور میری جان کی جان ! جس طرح یہ سب کچھ آپ نے خود کیا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر آئندہ بھی میرے ساتھ معاملہ فرمائیو۔اور طرفته العین کے لئے بھی مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر یو۔بلکہ میرا کھانا اور پینا، سونا اور جاگنا، میرا اٹھنا اور بیٹھنا، میرا جینا اور مرنا سب کچھ ہی آپ اپنی رضا کے مطابق کر دیں۔آمین اے حی و قیوم وقدیر تیری عطاؤں کو کوئی روکنے والا نہیں جبکہ جسے تو رڈ کر دے کوئی بچانے والا بھی