اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 394 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 394

۳۹۴ کرنے سے اقارب کے زخمی دلوں کو صبر و سکون میسر آیا۔مستورات ربوہ نے بھی غمخواری کی۔حضرت میاں صاحب سے سید مبارک احمد صاحب خلف حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب نے نہایت ہی محبت وخلوص سے غسل دینے کی اجازت طلب کر کے حاصل کی۔بعد غسل تابوت دارالضیافت کے دوسرے کمرہ ۲۵۲ میں رکھا گیا۔مہتہ عبدالرزاق صاحب کے جنوری کو صبح 4 بجے ربوہ پہنچے۔حضرت میاں صاحب نے شرف بازیابی بخشا اور نہایت ہی شفقت ، ہمدردی ، افسوس اور محبت بھرے الفاظ میں نوازتے ہوئے حالات دریافت فرمائے اور فرمایا کہ حضرت بھائی صاحب کیسے خوش قسمت ہیں کہ زندگی میں بھی ربوہ جلسہ سالانہ میں پہنچ کر دوستوں سے ملے ملائے اور وفات کے بعد بھی اہل ربوہ کو اپنے آخری دیدار کا موقعہ دیا۔آپ کے تین حاضر جنازے پڑھے جاویں گے۔ایک ربوہ، دوسرے لاہور، تیسرے قادیان۔بعد جنازہ ربوہ سے روانگی ر بوہ ۷ جنوری۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیمی اور مخلص صحابی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ کا جنازہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب بذریعہ ایمبولینس کار لاہور روانہ ہو گیا۔۵ اور ۶ /جنوری کی درمیانی شب خانیوال میں وفات ہوئی۔جنوری جنازہ بذریعہ ٹرک ۹ بجے صبح روانہ ہو کر ساڑھے تین بجے سہ پہر ربوہ پہنچا۔جہاں اسے مہمان خانہ میں رکھا گیا۔رات گئے تک احباب مہمان خانہ میں آکر حضرت بھائی جی کے چہرہ کی زیارت کرتے رہے۔دریں اثناء ان کے فرزندان میں سے مکرم عبد القادر صاحب مہتہ اور مکرم عبد الرزاق صاحب مہتہ کراچی میں انڈین ہائی کمشنر کے دفتر سے جنازہ قادیان لے جانے کی منظوری لے کر بذریعہ ہوائی جہاز لاہور ہوتے ہوئے ربوہ پہنچ گئے۔پروگرام کے مطابق آج صبح نو بجے مہمان خانے سے جنازہ اٹھایا گیا۔احباب کندھا دینے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے بھی دور تک کندھا دیا۔جنازہ بہشتی مقبرہ کے میدان میں لا کر رکھا گیا۔جہاں حضرت میاں صاحب مدظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں ربوہ کے احباب ہزار ہا کی تعداد میں شریک ہوئے۔بعد ازاں جنازہ لاہور روانہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔حضرت بھائی جی نے ذوق و شوق ، خدمت و فدائیت اور ولولہ عشق کی شاندار روایات کے علاوہ چار