اصحاب احمد (جلد 9) — Page 393
۳۹۳ سرانجام دی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اور احمدیت کے نوخیز جوانوں کو صحابہ کرام کا بابرکت درجہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اب تو یہ مبارک گروہ بہت ہی کم رہ گیا ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ - ۲۵۰ نوٹ بعد میں حضرت بھائی صاحب کے چھوٹے لڑکے مہتہ عبدالسلام صاحب کا فون آیا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بھائی جی کے جنازے کو قادیان لے جانے کی اجازت مل جائے۔اگر یہ اجازت مل گئی تو بہت اچھا ہوگا۔کیونکہ حضرت بھائی صاحب مرحوم کی شدید خواہش تھی کہ وہ قادیان میں دفن ہوں اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ پاکستان آتے ہوئے گھبراتے تھے کہ کہیں میری وفات قادیان سے باہر نہ ہو جائے۔۲۵ فون پر مہتہ عبدالقادر صاحب کو خانیوال سے معلوم ہو گیا کہ اسٹیشن پر بہت سے احمدی دوست آگئے ہیں اور جنازہ ربوہ لے جارہے ہیں۔صبح دفتر انڈین ہائی کمشنر والے بہت حسن سلوک سے پیش آئے۔نصف گھنٹہ کے اندر فرسٹ سیکرٹری نے ایک خط لکھ کر دیا۔جو دونوں بارڈروں پر بہت کام آیا۔ہائی کمشنر صاحب نے بعد از وقت ویزا فارم قبول کر کے پندرہ منٹ میں ویزوں کی تعمیل کرا کے دے دیئے مہتہ صاحب اور ان کی بچی ہوائی جہاز میں ۱۵- ۵ بجے شام لاہور پہنچ گئے۔اور فون پر حضرت میاں صاحب سے معلوم کر لیا کہ جنازہ ربوہ پہنچ گیا ہے۔اور تابوت بنا لیا گیا ہے۔اور تجہیز و تکفین کے انتظامات بھی کر دیئے گئے ہیں (بقیہ افراد خاندان ٹرین کے ذریعہ لاہور پہنچے۔بدر ) حضرت مرحوم کی بہو بیان کرتی ہیں کہ جماعت خانیوال نے پوری مدد کی اور ٹرک جنازہ لے کر صبح نو بجے روانہ ہوکر ساڑھے تین بجے بعد دو پہر ربوہ پہنچا۔محترم نیک محمد خان صاحب سڑک پر منتظر تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اطلاع پاتے ہی تشریف لے آئے اور جنازہ کو خو داتر وایا۔اور بیت الضیافت کے اس کمرہ میں رکھوایا جہاں حضرت بھائی جی قیام کیا کرتے تھے۔رکھوانے کے بعد اماں جی سے فرمایا۔میں آپ کو ایک خوشخبری سناؤں؟ فرمایا۔بھائی جی کا جنازہ قادیان جارہا ہے آپ کے لڑکوں نے انتظام کر لیا ہے۔الحمد لله ثم الحمد الله اس خوشی میں اماں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر میں گر گئیں۔جنازہ کی آمد کی خبر فوراً پھیل گئی۔حرم محترم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ، بیگمات، صاحبزادیاں، اور دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود اور تمام احباب و بزرگوں کے آنے اور ہمدردی -