اصحاب احمد (جلد 9) — Page 369
۳۶۹ ایک سیر سے زیادہ کی خریداری کرتے تھے۔۱۹۲۰ء میں رمضان المبارک آیا۔بھائی جی ایک ماہ کے لئے ساٹھ روپے ایک یکہ والے سے کرایہ طے کر کے برف چھ من پختہ روزانہ منگواتے رہے جو بٹالہ کے کارخانے سے دو روپے فی من کے حساب سے ملتی تھی گویا برف بارہ روپے اور کرا یہ دوروپے کے ساتھ روزانہ چودہ روپے صرف ہوتے۔وہ دو آنے فی سیر کے حساب سے آپ فروخت کرتے تھے۔اندراجات سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ چند ایک پھل اور چند ایک سبزیاں بھی آپ بعض دفعہ رکھتے تھے۔گو پیسٹری وغیرہ کی دکان سے سبزیوں کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ سبزیوں کے استعمال کا عام رواج نہ تھا تبھی ۲۱ ستمبر ۱۹۱۹ء کولنگر خانہ کو آپ کی دکان سے دوسیر ٹینڈے خرید نے پڑے۔اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بکری کم ہونے کی وجہ سے آپ کو سبزی وغیرہ بھی رکھنی پڑتی تھی۔کباب صرف ایک دفعہ درج ہیں۔قیمت ساڑھے تین روپے کے کسی اور جگہ درج نہیں۔اندازہ ہوتا ہے کہ کسی گاہک کو آپ نے کسی اور دکان سے حاصل کر کے مہیا کئے ہوں گے۔ایک کا رک سکریو (SCREW) ایک چمپنی اور ایک دیچی۔یہ تینوں چیزیں قریباً چار روپے کی فروخت کرنا بھی درج ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے آرڈر پر آپ نے منگوائی یا لائی ہوں گی۔روز نامچہ کے کل عرصہ کی فروخت کردہ اشیاء کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔اس سے تین باتیں سامنے آتی ہیں۔ایک بکری کی کمی۔دوسری عام افراد کی قوت خرید کی کمی۔تیسری عام صورت حال۔نام نرخ فروخت کل فروخت کیلئے باره آنه در جن تین روپے نصف آنہ ایک روپیہ فی سیر فلمی آم فی دانہ دو سے چار آنہ تک قریباً پانچ روپے انہتر روپے امرود پون روپیه چار آنے مٹر ٹینڈے چار آنے فی سیر گیارہ آنے توری چار آنے فی سیر تین روپے ٹماٹر سوا نو آنے شیر مال ( دوخریداروں کو دیا گیا ) سوا پانچ روپے نمبر شمار -1 -۲ -Y -2 -^ -9