اصحاب احمد (جلد 9) — Page 368
۳۶۸ گئیں۔بالعموم احباب ادہار سودا خریدتے تھے کیونکہ عوام کی اقتصادی حالت اچھی نہ تھی۔کئی برسوں تک سلسلہ کے کارکنان کا یہ حال رہا کہ کئی کئی ماہ تاخیر سے تنخواہیں تقسیم ہوتی تھیں۔اور اس کا اثر دکانداروں وغیرہ پر بھی پڑتا تھا۔ایسی صورت میں یہ کارکنان اور غریب مہاجرین بمشکل ضروریات زندگی ہی خرید سکتے تھے۔ایک ایک دو دو پیسے کے ادہار کے اندراجات یہی حقیقت ظاہر کرتے ہیں۔سو کاروبار کا میدان بہت ہی محدود تھا۔اس روز نامچہ کے مطابق اونچے گھرانے بھی ادہار سودا لیتے تھے۔ان کا مقصد یہ ہوتا ہوگا کہ ہر ماہ یکمشت ادا ئیگی کر دی جائے۔روز نامچہ کے کام کے زمانہ میں قریباً پچیس ماہ میں برف بشمول کلفہ کی بکری کے علاوہ پھل سبزی اور متفرقات کی ادبار فروخت جو کہ دراصل پچاس ساٹھ فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ادہار ہی ہوتی تھی ، چھ روپے ماہوار سے زیادہ نہ تھی۔سوڈا برف کا کام تو بالکل عارضی اور دواڑھائی کا ہی کام ہوتا تھا۔درمیان میں آپ سفروں پر سلسلہ کی خاطر چلے جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ قریباً چار ماہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ساتھ سفر میں رہے۔تو برف کا کام دو اور اشخاص نے شروع کر دیا روز نامچہ کے عرصہ بنتیں ماہ آٹھ دن میں سے آپ نے سات ماہ دس دن ،سولہ سفروں میں گزارے۔قادیان گائڈ میں ” قابل قدر نوٹ میں شیدائی“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے: حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے خدام اور شیدائی یوں تو آپ کے سب کے سب مبایعین ہیں۔لیکن سب سے زیادہ خدمت کرنے والے بعض یہ ہیں۔مثلاً شیخ عبد الرحمن صاحب قادیانی مطبوعه نومبر ۱۹۲۰ء۔صفحہ۱۱۲۔آپ کے نام کے بعد تین اور نام بھی درج کئے ہیں۔) آپ کا شیدائی ہونا تو ثابت ہے کہ جب ارشاد ہوا کاروبار اور گھر میں تکلیف کا خیال کئے بغیر تیل کے لئے حاضر و مستعد۔ریل سے دور ہونے کے باعث اور پھر سامان تھوڑی مقدار میں لانے کی وجہ سے لازماً اس پر کافی خرچ اٹھتا تھا۔مثلاً یکم جولائی ۱۹۱۹ء کے روز نامچے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو نصف رو پیدا جرت پر بٹالہ آپ نے بھیجا۔یکہ کا آمد ورفت کا کرایہ دوروپے دس آنے دیا۔برف ساڑھے تین روپے کی منگوائی۔لیکن قادیان پہنچنے پر برف ساڑھے تین سیر نکلی۔برف کا کام رمضان المبارک موسم گرما میں واقع ہونے کی وجہ سے ہوتارہا۔گو عام ایام میں برف چار آنے سے ایک روپیہ فی سیر کے حساب سے فروخت ہوتی تھی اور اعلی گھرانے بھی اس زمانہ میں شاذ ہی