اصحاب احمد (جلد 9) — Page 19
۱۹ میں نے یہ لکھا اور اس قوت و اطمینان سے لکھا کہ میرے دل میں کسی قسم کا نہ شک پیدا ہوا۔نہ گھبراہٹ اور خوف۔بلکہ ایک تسکین تھی جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی جس سے گویا میرے دل پر سے بوجھ کے پہاڑ اتر گئے اور میں ہلکا پھلکا ہو گیا۔جواب خط کے بعد شدید نا موافقت حالات میں نہ جانتا تھا کہ پندرہ روز کا وعدہ میں نے کس امید اور خیال پر کیا ہے اور نہ ہی میں نے کسی پروگرام کا نقشہ دل میں مرتب کر لیا تھا۔یہ فقرہ محض بے ساختہ لکھا گیا جس کی تفصیل و کیفیت میرے ذہن میں ہرگز ہرگز نہ تھی کیونکہ میں نے سوچ سمجھ کر نہ لکھا تھا۔اور خود بھی نہ لکھا تھا بلکہ مجھ سے لکھوایا گیا تھا۔الغرض چند پیسے انعام کے ساتھ خط ڈاکیہ کے سپرد کیا۔میں خوش تھا۔اور کوئی گھبراہٹ میرے دل میں نہ تھی کہ کیوں میں نے ایسا کام کیا جس کا پورا کرنا میری طاقت میں نہیں۔اور جس کے عدم ایفاء کا نتیجہ موت ہے۔دل میں یہی تھا کہ جو ہوا ٹھیک ہوا اور جو ہونا تھا ہو گیا۔اب ڈر اور خوف کی گنجائش ہی باقی نہیں۔خط چلا گیا لیکن ایفائے عہد کا کوئی سامان پیدا ہونے کا خیال کرنا محض ایک وہم اور جنون تھا۔بلکہ اس کی مخالفت خود میرے والدین کر رہے تھے۔اور اپنی ساری توجہ اور پور از ور اس خیال کو میرے دل سے بالکل نکال دینے پر خرچ کر رہے تھے۔بریکاری کے شکوہ پر محبت اور نرمی یا ناراضگی اور خفگی سے جواب ملتا۔کہ یہ خیال دل سے نکال دو۔گھر میں پر ماتما نے سب کچھ دے رکھا ہے اس کو سنبھالو اور بھائی بہنوں کے ساتھ مل کر کھاؤ پیو۔اور اگر کام کا بہت ہی شوق ہے تو ہمارے کام میں ہماری مدد کرو۔میں گرداوری اور پیمائش اور گشت میں ان کی مدد کرتا لیکن بعض باتوں میں ان کے نزدیک نقصان بھی کرتا اور گھر کے نفع ونقصان کو نہ سمجھ سکتا۔جس سے وہ کبیدہ خاطر ہوتے مثلاً اول تو میں مویشی پکڑا ہی نہ کرتا۔البتہ والد صاحب گشت میں مویشی پکڑ لاتے اور بھاری جرمانے وغیرہ وصول کرتے۔میں والد صاحب کو ٹالنے کی کوشش کرتا یا والد صاحب ادھر ادھر ہوتے تو ان کو چھوڑ کر بھگا دیا کرتا تھا۔کیونکہ میں اسے اکثر ظلم اور زیادتی سمجھتا تھا۔جوں جوں دن گزرنے لگے میری بے قراری اور اضطراب بڑھتا جاتا اور بے چینی سے کبھی صحن میں کبھی چھت پر اور کبھی انگنائی کی چار دیواری پر بیٹھا پر سوز اور رقت آمیز لہجہ میں بعض دردناک فقرے بولا کرتا یا وہی ” دلا غافل نہ ہو یکدم کہ دنیا چھوڑ جاتا ہے۔“ کی صدائیں کرتا رہتا۔آنے والی خیالی مصیبت