اصحاب احمد (جلد 9) — Page 285
۲۸۵ ایک خصوصی درس میں شمولیت حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک خصوصی درس ۱۸اگست تا ۸ ستمبر ۱۹۲۸ مسجد اقصی میں یونس تا سورہ کہف پانچ پاروں کا دیا۔جس کے لئے اعلان ہونے پر بیرون قادیان اور قادیان کے پانصد احباب نے شرکت کی۔مستورات کے لئے پردہ کا انتظام تھا۔چار پانچ گھنٹہ روزانہ کے درس کے لئے حضور موسم گرما کے ان ایام میں روزانہ نصف شب تک علمی تحقیقات کر کے نوٹ تیار کرتے تھے اور دن کو سلسلہ کے ضروری کام بھی سرانجام دیتے تھے۔حضور نے چودہ علماء اور زود نویسوں کی ایک جماعت درس قلمبند کرنے کے لئے مقرر فرمائی تھی۔ان میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور محترم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی بھی شامل تھے۔مقصد یہ تھا کہ یہ کاپیاں بعد ازاں استفادہ کے لئے محفوظ رکھی جائیں گی۔دیگر شامل ہونے والوں میں سے ایک سوسات افراد کو قریب جگہ دی جاتی تھی۔ان کی حاضری لی جاتی تھی اور روزانہ ان کا امتحان لے کر حضور نتیجہ کا اعلان فرماتے تھے۔حضور نے درس میں شامل ہونے والے ان احباب کو دارا صیح میں دعوت طعام دی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نونہالان نے کھانا کھلایا۔۷ ستمبر کو بعض احباب بیرون مجبوراً جانے والے تھے۔حضور نے ایک مختصر الوداعی تقریر میں اور خطبہ جمعہ میں بھی بیرونی احباب کو تلقین فرمائی تبلیغ کرنے ، حقائق قرآن مجید پھیلانے اور قلمی جہاد کرنے اور اپنی اپنی جماعتوں کو سنبھالنے اور ان میں زندگی کی روح پیدا کرنے کی اور قرآن مجید پر عمل کرنے اور کرانے کی کوشش کرنے کی۔الوداعی تقریر کے بعد نہایت خشوع و خضوع سے حضور نے تمام احباب سمیت لمبی دعا کی۔خود حضور کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔آخری روز (۱۸ ستمبر کو ) صبح سے دو بجے بعد دو پہر تک درس ہوا۔پھر اجتماعی دعا ہوئی۔ایک دوست کی طرف سے مٹھائی تقسیم ہوئی۔حضور نے فرمایا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان مبارک کے دنوں میں جبکہ قرآن مجید نازل ہوتا تھا بہت صدقہ دیتے تھے میں دس روپے صدقہ دیتا ہوں۔دیگر احباب بھی قادیان کے غرباء کے لئے صدقہ دیں۔چنانچہ قریبا دوصد روپے جمع ہوئے۔-١٢ - کشمیر کمیٹی کی زمام صدارت حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے سپر د جن رہنماؤں کی طرف سے متفقہ طور پر کی گئی۔اس سلسلہ میں مرکز سے جن بزرگان نے وقتاً فوقتاً سری نگر ، جموں اور میر پور میں اہم خدمات