اصحاب احمد (جلد 9) — Page 284
۲۸۴ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک گندی زہر آلود کتاب شائع کرنے والے کو بری کر دیا تھا کہ وہ قانون کی زد میں نہیں آتا۔لاہور ہائی کورٹ میں سید صاحب پر ہتک عدالت کا مقدمہ دائر ہوا۔انہوں نے اپنی تحریر پر معذرت نہیں کی بلکہ قید وجرمانہ کی سزا کو ترجیح دی۔اس سزا پر مسلمانان ہند میں ہیجان پیدا ہوا کہ مصنف شاتم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو حج مذکور نے ہتک عزت کی سزا نہ دی کہ قانون کی دفعہ میں اس کی گنجائش نہیں۔لیکن حکومت کو ایسے حج کی عزت کا اس قدر پاس ہوا کہ حکومت کی مشینری حرکت میں آگئی۔اخبار مسلم آؤٹ لک کے مشہور مقدمہ میں جو کارروائی عدالت عالیہ لاہور میں ہوئی۔اس کی رپورٹ متعدد اردو۔انگریزی روزانہ اخبار میں شائع ہو چکی ہے۔لیکن ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ الفضل کے خاص نامہ نگار بھائی عبدالرحمن صاحب نے جس تفصیل اور عمدگی کے ساتھ مقدمہ کی رپورٹ قلم بند کر کے بھیجی ہے۔ایسی کسی اخبار نے بھی شائع نہیں کی۔۔۔جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب۔۔۔۔۔نے کیسی اعلیٰ قابلیت اور کتنی بڑی خوبی کے ساتھ مقدمہ کو پیش کیا اور کیسی زبر دست گفتگو ( بحث ) کی جس طرح اس مقدمہ کا فیصلہ اپنی تلخی کے لحاظ سے مسلمانان ہند کے لئے ہمیشہ باعث رنج والم رہے گا۔اسی طرح جناب چودھری صاحب موصوف کا اس مقدمہ میں ایسی جرات کے ساتھ پیش ہونا اور اس قدرپر زوراورز بر دست بحث کرنا بھی یادر ہے گا۔۲- تحفظ ناموس کے بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلسل پیہم کوشش کر کے امت مسلمہ کی رہبری کی کہ ایسی بدزبانی کے انسداد کے لئے وہ کیا کرے۔چنانچہ حکومت اس بارے میں قانون بنانے پر مجبور ہوئی۔(حضور کا خطبہ مندرجہ الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۲۷ء اس بارے میں بھائی جی کی نوشتہ رپورٹیں ۴ مارچ تا۔۔۔جون ۱۹۳۰ء قابل مطالعہ ہیں۔) 1- مجاہد ماریشس کا استقبال بمبئی میں مجاہد ماریشس حضرت حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے بارہ سال کے بعد واپس تشریف لا رہے تھے۔آپ کے استقبال کیلئے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو بمبئی بھیجا گیا۔بمبئی تا بٹالہ کے استقبال کے کوائف بھائی جی کے قلم بند کر دہ شائع شدہ -