اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 253 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 253

۲۵۳ ”صاحب بہادر نے دوران گفتگو میں خود سیدنا حضرت اقدس کی ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔اور فرمایا کہ اگر مرزا صاحب کو تکلیف نہ ہو تو مجھے آپ کی ملاقات سے بہت خوشی ہوگی۔حضور کو جب اس خواہش کی اطلاع پہنچی تو حضور نے فرمایا: ”وہ ہمارے مہمان بلکہ معزز و ممتاز مہمان ہیں۔ان کو تکلیف اٹھانے کی 66 ضرورت نہیں۔ہم خود ان کے خیمہ میں جا کر ان سے ملاقات کریں گے۔“ دعوت کی قبولیت کی اطلاع بعد میں جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کی معرفت آچکی تھی۔جس کی تیاری کے انتظامات حضرت حاجی حافظ حکیم فضل دین صاحب مرحوم کے سپرد ہوئے۔اور اس طرح شام کا کھانا اس سارے قافلے کا خیموں میں پہنچایا گیا۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعد نماز عصر پانچ بجے ، صاحب بہادر کی ملاقات کو تشریف لے گئے۔حضور کے ہمرکاب عشاق و خدام کا ہجوم تھا۔مگر منتظمین کی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ ملاقات کے وقت زیادہ ہجوم نہ ہو۔چنانچہ حضرت اقدس کے ہمر کاب ملاقات کیلئے صرف بعض اصحاب اور بعض عزیز ہی خیمہ کے اندر گئے تھے۔یہ وہی ملاقات ہے جس میں حضور اور فنانشل کمشنر کے درمیان گفتگو ہوئی تھی ( ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت کے بارے میں لیکن حضور نے اس امر کو پسند نہ فرمایا تھا )۔۔۔سیدنا امیر المومنین حضرت اقدس خلیفتہ اسیح الثانی۔اس گفتگو کی تفصیل و تشریح اکثر بیان فرمایا کرتے ہیں۔قبلہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب جو اس چشمہ نور اور شمع و ہدایت کے عاشق صادق اور پروانہ واقع ہوئے تھے حضور کے ساتھ ہی ساتھ خیمہ کے دروازہ تک جاپہنچے۔مگر خیمہ میں داخل ہونے سے قبل دروازہ کے کچھ دور ہی سید نا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دست مبارک کی چھڑی جو گھر سے باہر ہمیشہ حضور کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی حضرت مفتی صاحب کو دے دی جسے لے کر حضرت مفتی صاحب وہیں کھڑے ہو گئے۔اور اس طرح اپنے آقا کے ہمرکاب اندر جانے کی زبردست خواہش کو حضور کے حکم وامر پر قربان کر کے حضور پُر نور سے بار بار سنے ہوئے منقولہ الامر فوق الادب کی تعمیل اپنے عمل سے کر دکھائی۔صاحب بہادر سید نا حضرت اقدس کو خیمہ کی طرف تشریف لاتے دیکھ کر اٹھے اور دروازہ پر حضور کا استقبال کیا۔پہلے حضور کو بٹھایا پھر خود بیٹھے اور سلسلہ کلام اردو میں جاری ہو گیا۔اس طرح کسی ترجمان اور درمیانی واسطہ کی ضرورت باقی نہ رہی۔