اصحاب احمد (جلد 9) — Page 225
۲۲۵ علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے بلا واسطہ، براہ راست سنے اور پچاس برس سے میرے دل ودماغ میں محفوظ و منقوش چلے آرہے ہیں۔اور آج بھی جب میں عالم خیال میں اس مجلس میں ہوتا ہوں تو ان پاک کلمات کی گونج میرے کان محسوس کرنے لگتے ہیں۔جب مقدمہ، دیوار والی دیوار کی وجہ سے جماعتی کاموں میں روک بڑھنے لگی مہمانوں کو مختلف قسم کی تکالیف کا سامنا ہوا۔فرائض دینی کی ادائیگی میں مشکلات حائل ہوئیں۔مقدمہ لمبا ہوتا گیا تو سیدنا حضرت اقدس صحیح پاک علیہ الف الف صلوۃ والسلام نے احباب سے مشورہ سے یہ تجویز فرمائی کہ ضلع کے حاکم اعلیٰ کے پاس ایک وفد بھیج کر اپنی مشکلات و تکالیف پیش کر کے ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے۔چنانچہ جماعت کے معزز احباب کی ایک فہرست مرتب کی گئی جس میں بڑے بڑے زمیندار تجار اور ملازمت پیشہ اصحاب شامل تھے۔اور ان سب کو اطلاعات بھجوائی گئیں۔تا کہ وہ وقت و تاریخ مقررہ پر پہنچنے کے لئے تیار ہوسکیں۔حسن اتفاق سے صاحب ضلع کے دورہ کا اعلان ہوا۔جس میں ایک یا دو دن کا مقام ہر چو وال متصل قادیان کے نہری بنگلہ پر مقرر تھا۔علم ہونے پر حضور نے اس مقام پر وفد کے پیش ہونے کی تجویز کو پسند فرمایا۔اطلاعات بھجوانے پر وفد کے احباب تاریخ مقررہ سے پہلے قادیان پہنچ گئے اور حضور سے ملاقات کی سعادت کے بعد ہدایات لے کر صاحب ڈپٹی کمشنر کی ملاقات کے لئے وفد بہ سر کردگی حضرت حافظ حاجی حکیم فضل الدین صاحب بھیروی سیکوں پر سوار ہو کر ہر چو وال کے نہری بنگلہ پر گیا۔قافلہ کی ترجمانی کے لئے متفقہ طور پر محترم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر اخبار الحکم منتخب کئے گئے۔جنہیں اس زمانہ میں عموما ایسی خدمات کی سرانجام دہی کا شرف میسر تھا۔اور ضرورت کے وقت اعلیٰ احکام اور افسران پولیس وسول کو جماعتی و انفرادی معاملات کے سلجھانے اور بنانے بنوانے میں وہ اپنی مثال آپ ہی تھے۔اور وہ گو یا وفد کی زبان تھے۔وفد گیا اور غیر متوقع طور پر جلد لوٹ آیا جس کی وجہ سے اہالیان قادیان حیرت میں تھے۔فوراً ہی سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور وفد کی واپسی کی اطلاع دی گئی اور حضور بہت جلد گول کمرہ میں تشریف فرما ہوئے۔جہاں معزز ممبران وفد عرض حال کی غرض سے جمع تھے۔میں وفد کے ساتھ نہ تھا۔لہذا میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا اس کا خلاصہ اور مفہوم یہ ہے کہ حضرت کے حضور عرض کیا گیا کہ ابھی ہم لوگ بنگلہ سے کافی فاصلہ پر تھے کہ صاحب بہادر نے دیکھ کر