اصحاب احمد (جلد 9) — Page 224
۲۲۴ - 1+ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود باجود دنیا جہان بلکہ ہفت اقالیم سے بھی کہیں بڑی نعمت، خدا کا خاص انعام اور فضل و احسان تھا۔کیونکہ وہ خدا نما تھا جس کو دیکھتے ہی خدا کی عظمت و جلال کا کبھی نہ مٹنے والا اثر دل و دماغ پر ہوتا اور خدا کی خدائی پر یقین پیدا ہوا کرتا تھا۔جس کی مجلس خدا کے تازہ بتازہ کلام سننے کا مقام اور اس کلام کو پورا ہوتے دیکھنے سے خدا کے کامل علم اور اس کی کامل قدرت پر یقین ہونے کی جگہ اور دلوں میں نور علم و عرفان بھرنے کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔روح کی تازگی ایمان کی مضبوطی، قلوب کی صفائی اور اذہان کی جلا کے سامان اس مجلس میں جمع ہوا کرتے تھے۔تزکیہ نفوس کے سامان اس میں ملتے اور محبت الہی کی آگ پیدا ہو کر دنیا کی محبت کو سرد کر دیا کرتی تھی۔چنانچہ اس تازہ نشان نے بھی جماعت میں ایک روحانی تغیر پیدا کر دیا۔اور سالکین کے لئے منازل ایقان وعرفان کو آسان کر دیا تھا۔اور ایک خاص روحانی انقلاب کا یہ نشان الہی پیش خیمہ تھا۔جس کی اہمیت گہرے غور وتدبر سے ہمیشہ نمایاں ہوتی رہے گی۔عید کے روز حضور کے اس خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھے جانے اور حضور پر نور کو نطق کی خاص طاقت وقوت عطا کئے جانے سے یوم الج کے روز کی دعاؤں کی قبولیت کا یقین گو یا مشاہدہ میں بدل گیا تھا۔کیونکہ یہ دنوں چیزیں باہم بطور لازم وملزم کے تھیں۔یہ عید اپنی بعض کیفیات کے لحاظ سے تاریخ سلسلہ کا ایک اہم ترین واقعہ اور ایک خاص باب ہے جس کی گہرائیوں میں جتنے بھی غوطے لگائے جائیں گے اتنے ہی زیادہ سے زیادہ قیمتی انمول اور بے مثال موتی ملیں گے۔مبارک وہ جن کو ان کے حصول کی توفیق رفیق ہو۔اور سلامتی ہوان پر جو ان کو حاصل کر کے خدمت سلسلہ اور خدمت خلق میں صرف کریں۔اللهم صل على محمد و ال محمد و بارک وسلم انک حمید مجید عبد الرحمن قادیانی ۲۸ جولائی ۱۹۴۶ء ۱۳ داغ ہجرت کا الہام حضرت بھائی جی تحریر فرماتے ہیں: 66 امين امين ثم امين داغ ہجرت کا الہام بھی تو ہے۔یہ وہ الفاظ ہیں جو میں نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود