اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 213 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 213

۲۱۳ اقرار و اعتراف کر رہا تھا کہ واقعی یہ مضمون سب پر غالب رہا۔اور اپنی بلندی لطافت اور خوبی کے باعث اس جلسہ کی زینت وروح رواں ہے اور جلسہ کی کامیابی کا ضامن ہے۔نہ صرف یہی بلکہ ہم نے اپنے کانوں سنا اور آنکھوں دیکھا کہ کئی ہندو اور سکھ صاحبان مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر کہہ رہے تھے کہ اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گے۔اور اگر مرزا صاحب کے اس قسم کے ایک دو اور مضمون سنائے گئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ہی ہمارا مذہب ہوگا۔“ -17 ۱۶- آج کا جلسہ ۲۷ / دسمبر برخاست ہو گیا۔لوگ گھروں کو جارہے تھے۔جلسہ گاہ کے دروازہ پر میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں طرف دو آدمی کھڑے سیدنا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا وہی اشتہار تقسیم کر رہے تھے جو حضور پر نور نے میرے ہاتھ خاص تاکیدی احکام کے ساتھ بھجوایا تھا تا کہ معروف مقامات پر چسپاں کیا جائے۔اور جلسہ سے پہلے ہی پہلے کثرت سے شائع کیا جائے۔بلکہ یہ بھی تاکید تھی کہ یہ تھوڑا ہے۔ضرورت کے مطابق لاہور ہی میں اور طبع کرالیا جائے تاکہ قبل از وقت اشاعت سے اس خدائی نشان کی عظمت کا اظہار ہو۔جس سے سعید روحیں قبول حق کے لئے تیار ہوں مگر ہوا یہ کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے خوف کھانے کی وجہ سے پہلے دنیا جہان نے خدائی نشان کی عظمت کا مشاہدہ کیا اور اس کے غلبہ کا اقرار واعتراف اور بعد میں ان کو وہ اشتہار پہنچایا گیا جو کئی روز قبل چھاپا اور اچھی طرح شائع کرنے کو بھیجا گیا تھا۔چنانچہ جب سید نا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو خواجہ صاحب کی اس کمزوری وکوتا ہی کا علم ہوا تو حضور پر نور بہت خفا ہوئے اور کئی دن تک۔۔۔جب بھی اس نشان الہی کا ذکر ہوا کرتا یا بیر ونجات سے اس کامیابی کے متعلق رپورٹیں ملتیں۔ساتھ ہی خواجہ صاحب کی اس کمزوری پر اظہار سننے میں آیا کرتا تھا۔مضمون کی قبولیت اور پبلک کے اصرار و تقاضا سے متاثر ہو کر منیجنگ کمیٹی کا اجلاس خاص منعقد ہوا۔اور اس میں یہ قرارداد پاس کی گئی کہ حضرت مرزا صاحب کے مضمون کی تکمیل کے لئے مجلس اپنے پروگرام میں ایک دن بڑھا کر ۲۹ دسمبر کا چوتھا دن شامل کرتی ہے۔حضور کے مضمون کی غیر معمولی قبولیت غیروں کو کب بھاتی تھی ؟ مولوی محمد عبد اللہ صاحب نے ایزاد کی وقت کی اس خصوصیت اور اہمیت کو کم کرنے کے لئے کوشش کر کے اپنے لئے بھی وقت بڑھائے جانے کی کوشش کی۔چنانچہ نصف گھنٹہ ان کے لئے بھی بڑھا دیا گیا۔مگر دوسرے روز خود تشریف ہی نہ لائے اور اپنا