اصحاب احمد (جلد 9) — Page 214
۲۱۴ -12 وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے لئے وقف کر دیا۔جس کی وجہ سے ظاہر ہے عیاں راچہ بیاں۔مگر خدا کی شان حاضری اتنی حوصلہ شکن تھی کہ جلسہ گاہ کے بھر جانے کے انتظار ہی انتظار میں وقت گذرنے لگا۔نہ مجلس کل کی طرح پُر رونق ہو نہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کھڑے ہوں۔آخر بہت انتظار کے باوجود جب وہ خواہش پوری ہوتی نظر نہ آئی تو بادل ناخواستہ مجبوراً کھڑے ہوئے اور جو کچھ لکھا تھا پڑھ دیا۔اور زیادہ وقت لینے کے باوجود نہ خود خوش ہوئے نہ پبلک نے کوئی داد دی۔- ۲۹ دسمبر کی صبح کو ساڑھے نو بجے کا روائی جلسہ شروع ہونے والی تھی۔دسمبر کا اخیر، سردی کی شدت اور وقت اتنا سویرے کا تھا کہ لوگ ضرورت سے فراغت پاسکیں تو در کنار اتنی سویرے تو عام طور پر شہروں کے لوگ جاگنے کی عادی نہیں ہوتے۔فکر تھی ، اندیشہ تھا کہ شاید حاضری بہت ہی کم رہے گی۔اور اس طرح آج وہ لطف شاید نصیب نہ ہوگا۔مگر خدا کے کام اپنے اندر ایک غیر معمولی جذب اور مقناطیسی کشش رکھتے ہیں جسے کوئی طاقت روک ہی نہیں سکتی۔انسان اگر غفلت اور ستی دکھا ئیں تو وہ فرشتوں سے کام لیتا ہے۔چنانچہ سویرے ہی سویرے ٹھٹھرے ہوئے اور سردی سے سمٹتے اور سکٹر تے ہوئے خلق خدا جھنڈ کے جھنڈ اور جوق در جوق اس کثرت اور تیزی سے آئی کہ ستائیس کی دو پہر بعد کا نظارہ بھی مات پڑ گیا۔اور جلسہ نہایت شوکت اور عظمت اور خیر و خوبی سے جاری ساری اور پھر نہایت کامیابی وکامرانی سے اختتام پذیر ہوا۔اور اس طرح حضور پر نور کا مضمون دنیا و جہان پر علی رغم انوف الاعداء اپنے غلبہ، خوبی ، کامیابی ،اور عظمت و حقانیت کا سکہ بٹھا کر علمی دنیا کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا نشان بن کر آسمان دنیا پر سورج اور چاند کی طرح چمکنے لگا۔دوست تو در کنار دشمن بھی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔اپنے اور بیگانے ، پبلک اور منتظمین غرض ہر شعبہ میں اسی مضمون کا چرچا اور زبانوں پر حق جاری تھا۔اخبارات نے مقالے لکھے اور اس صداقت کا اقرار و اعتراف کیا۔منتظمہ کمیٹی نے اپنی طرف سے اس اقرار کور پورٹ متعلقہ میں درج کر کے اظہار حقیقت کیا۔سچ ہے چڑھے چاند چھپے نہیں رہ سکتے۔اور اس کا انکار بیوقوفی اور شب کوری کی دلیل ہوتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے مقدس و مقبول بندے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو کچھ فرما دیا تھا وہ ہوکر رہا۔خدا کی بات پوری ہوئی اور دنیا کی کوئی طاقت، کوئی تدبیر، کوئی مکر اور حیلہ خدائی کلام کے پورا ہونے میں روک نہ بن سکا۔-IA رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب شائع ہوئی۔اور منتظمہ کمیٹی جس کے اراکین ہر مذہب وملت کے ممبر اور اپنے طبقہ کے ذمہ دار لوگ تھے، کی طرف سے اس کے خرچ وصرف سے شائع ہوئی۔تمام وہ