اصحاب احمد (جلد 9) — Page 169
۱۶۹ حضرت اُم المؤمنین کے اعلیٰ روحانی اخلاق حضرت بھائی جی نے حضرت اُم المؤمنین کے اعلیٰ روحانی اور اخلاقی کمال کے بارے بیان کیا: میں بچہ تھا جب قادیان میں اللہ تعالیٰ مجھے لایا۔اور اب پچھتر سالہ بوڑھا ہوں۔میری قریباً ساٹھ سالہ زندگی "الدار کی ڈیوڑھی کی دربانی میں اور سیدۃ النساء حضرت اُم المؤمنين اعلى الله درجاتها في الجنة کے قدموں میں گذری۔میں ملک کے طول و عرض میں مختلف اسفار میں حضرت ممدوحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمرکاب رہا۔اس عرصہ میں جو کچھ حسن سلوک ، عطایا اور انعامات مجھ غلام پر سیدہ اطہرہ کی طرف سے ہوئے وہ میرے لئے احاطہ تحریر میں لانے نا ممکن ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے غلامی اور یتیم کی حالت میں قادیان کی بستی میں پہنچایا۔لیکن حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی تو جہات کریمانہ اور احسانات بے پایاں نے مجھے سب غم بھلا دیئے۔اور وہ اطمینان وسکون اور سہولت و آرام بخشا جو ایک بچہ کوحقیقی ماں کی گود میں بھی میسر نہیں آسکتا۔میں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں جو حضرت محدوحہ کے قدموں میں گذاری۔آپ کو بہترین شفیقہ ، اعلی ترین اخلاق کی مالکہ۔ہمد در و تقویٰ شعار اور خدا تعالیٰ کی راہ میں راستباز پایا اور آج جب کہ دنیا کی یہ محسنہ ہم سے جدا ہوگئی ہیں اپنے لمبے تجربہ کی بناء پر یہ کہ سکتا ہوں کہ جس طرح حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضرت کے اخلاق کا نقشہ کان خلقه القرآن کے الفاظ میں کھینچا تھا اسی طرح میں حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اخلاق کا نقشہ کان خلقها كخلق المسيح الموعود کے الفاظ میں کھینچتا ہوں۔یعنی حضرت ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے اخلاق وہی تھے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق تھے اور آپ کی عادات واطوار اور سیرت وکردار وہی تھے جو سیح پاک علیہ الف الف صلوۃ والسلام کی زوجہ محترمہ کے ہونے چاہئے تھے۔جب بچپن میں خدا تعالیٰ کے خاص ہاتھ نے مجھے بت پرست قوم سے نجات دے کر نو رایمان واسلام سے منور کیا تو میری حقیقی والدہ جس نے مجھے جنا تھا۔اپنی مامتا سے مجبور ہوکر ایک سے زیادہ بار مجھے واپس لے جانے کے لئے قادیان آئی۔لیکن مجھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کی غلامی اتنی محبوب اور دلپسند تھی کہ میں نے اس کو ہزار آزادیوں اور آراموں پر ترجیح دی۔اور جب ایک دفعہ میرے والد نے بڑی آہ وزاری والحاح سے مجھے واپسی کے لئے مجبور کرنا چاہا تو میں اس واقعہ کے