اصحاب احمد (جلد 9) — Page 145
۱۴۵ یاد ہے کہ برف اور سوڈا واٹر کے لئے شیخ صاحب مرحوم نے الگ الگ بکس بنوارکھے تھے۔جس میں ای پلومر کا سوڈا اور جنجر کبھی کیسری کا لیمن روز وغیرہ بٹالہ تک بذریعہ ریل اور بٹالہ سے قادیان ریڑھوں۔یکہ یا بہلی اور رتھ کے ذریعہ آیا کرتے جو صبح کو چلی تو دس بجے دن کے قادیان پہنچتی تو بمشکل نصف یا اس سے بھی کم رہ جایا کرتی تھی۔سوڈالیمن وغیرہ کی بوتلیں پھٹ کر ٹوٹ جایا کرتیں کچھ گرمی کی شدت سے تو کچھ ریڑھوں اور یگوں کے دھکوں سے۔ایک زمانہ میں ( خلافت ثانیہ میں ( محترم سید عزیز الرحمن صاحب نے بھی برف وغیرہ منگانے کا انتظام کیا تھا مگر نقصان کی برداشت نہ کر سکے۔آخر اس تجارت کو چھوڑ دیا۔راقم الحروف عبدالرحمن قادیانی بھی متواتر کئی سال تک لاہور سے ای پلومر کا سوڈا جنجر اور کیسری کا روز لیمن منگا کر عموماً چار آنہ فی بوتل تک فروخت کرتا رہا۔برف بھی منگوائی جاتی رہی۔رتھ خانہ پریس پریس کی مضبوطی و خوبی کا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خاص طور سے خیال ہوا کرتا تھا۔حضور کی بڑی خواہش یہ ہوا کرتی تھی کہ اچھے سے اچھا کا تب ملے۔صحیح اور بہترین لکھائی اور خوبصورت چھپائی ہو۔کتا بیں جس طرح اعلی علمی اور روحانی مضامین سے مزین اور ہدایت ونور سے معمور ہوتی ہیں اسی طرح ان کی ظاہری شکل وصورت بھی دیدہ زیب۔دلکش اور جاذب نظر ہوتا کہ نازک طبع اس کی ظاہری شکل ہی کی وجہ سے ان کے فیوض و برکات سے محروم نہ رہ جائیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے حضور نے اپنا ایک پریس ضیاء الاسلام نام جاری فرمایا تھا۔دیوار فصیل کی جگہ احمد یہ چوک سے ( جو چوک مسجد مبارک بھی کہلاتا ہے) جانب شرق جو مکان حضرت اقدس (خلیفہ المسیح الثانی اید اللہ تعالی کے موٹر گیراج کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس سے قبل ( حضرت نواب محمد علی خان صاحب) کا رتھ خانہ تھا اور جس کے اوپر پیر جی سراج الحق صاحب کے مکان کا صحن واقع ہے۔یہ جگہ پہلے پہل ۱۸۹۵ء میں ایک کھلے دالان کی صورت میں تھی۔اور بعد میں اس میں ضیاء الاسلام پریس حضرت خطوط وحدانی کی عبارت خاکسار مؤلف نے حضرت بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کی ہے۔