اصحاب احمد (جلد 9) — Page 144
۱۴۴ باہر الگ انتظام کرنا پڑا۔روٹی کے لئے تنور کا اور دال سالن کے واسطے دیگچیوں کی بجائے دو بڑے دیگچھوں اور پھر دیگوں کا انتظام ہوا۔( جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مستری قطب الدین صاحب امرتسری مسگر کے ذریعہ خریدی جاتی تھیں۔اور ایک سے دوسری۔دوسری سے تیسری اور تیسری سے چوتھی اور پانچویں جگہ تبدیلی وانتقال کے بعد کئی منازل طے کرتے ہوئے لنگر خانہ موجودہ مقام تک پہنچا ہے۔کھانا صبح کے وقت گول کمرہ میں اور شام کو موسم گرما میں مسجد مبارک کی بالائی منزل پر اور موسم سرما میں مسجد مبارک کے اندر بعد نماز مغرب کھلایا جاتا تھا۔اور سید نا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام پہلے پہلے عام دستر خوان ہی پر شمولیت فرمایا کرتے تھے۔ایک وقت آیا کہ بعض ناگوار واقعات مثلا بعض افراد کے کھانے کے غیر پسندیدہ طریق سے حضرت اقدس کو تکلیف ہوئی تو حضور نے عام دستر خوان پر تشریف لانا بند کر دیا۔اور اس طرح دو دستر خوان الگ الگ ہو گئے اور حضور بعض خاص اصحاب اور مہمانوں کے ساتھ ( گول کمرہ کے اندر یا گول کمرہ کی چھت پر کھانا ) تناول فرمانے لگے۔اور ہوتے ہوتے ایسا ہوا کہ حضور صرف شام کے دستر خوان پر شرکت فرمایا کرتے (اور وہ بھی صرف خاص اصحاب اور مہمانوں کے ساتھ ) حضور نہایت ہی کم کھاتے۔چپاتی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کرتے۔ننھا سا حصہ لے کر انگلیوں میں رول رول کر بعض اوقات اس میں سے بھی بعض حصہ الگ کر دیتے اور بقیہ حصہ کھایا کرتے۔ایسا معلوم ہوا کرتا تھا کہ حضور محض شمولیت کی غرض سے تشریف فرما ہیں اور دوسروں کو کھلا رہے ہیں۔خود برائے نام نوش فرماتے تھے۔حضور کے سامنے اگر کوئی خاص چیز آتی تو حضور اسے احباب میں تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔دستر خوان پر باتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔برف سوڈا ( سیر بھر آٹا بھی قادیان سے دستیاب نہ ہوتا تھا) برف اور سوڈا اور پان وغیرہ خاندانی ضرورت اور مہمانوں کی خدمت کے لئے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عموماً لاہور سے منگایا کرتے جس کے لئے محترم شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر بمبئی ہاؤس اکثر انتظام فرمایا کرتے تھے۔مجھے خوب اس عنوان کی روایت الحکم بابت ۷ تا ۴ ارمئی ۱۹۳۸ ء صفحہ ۷ اسے ماخوذ ہے۔خطوط وحدانی کے الفاظ حضرت بھائی جی سے خاکسار مؤلف نے استفسار کر کے اضافہ کئے ہیں۔