اصحاب احمد (جلد 9) — Page 119
119 اکثر مقفل و بے چراغ ، خال خال کوئی آباد اور جو آباد بھی تھے ان پر بھی ایک قسم کی اداسی برستی دکھائی دیا کرتی تھی۔جیسے کسی اجڑے دیار کا سوگ منارہے ہوں۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ گاؤں کا زیر آبادی رقبہ زیادہ سے زیادہ بائیس یا تئیس ایکڑ تھا مگر تین چوتھائی حصہ غیر آباد یا تباہ و برباد پڑا تھا۔اور بمشکل ایک چوتھائی حصہ آباد جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سو نفوس رہتے ہوں گے۔( مالکان مکان خواہش رکھتے تھے کہ مفت میں ہی کوئی ان کے مکان میں بود و باش رکھے۔کیونکہ الٹا مکانات کی نگرانی پر خرچ کرنا پڑتا تھا۔یہ بات کچھ عرصہ بعد کی ہے کہ غیر مسلم بوجہ تعصب احمدیوں کو مکان کرایہ پر نہیں دیتے تھے۔یا احمدی کرایہ داروں کو تنگ کرتے تھے۔اس زمانہ کے اجڑے دیار کے بازار ( جو صرف نام کے ) دو تھے۔ایک بڑا بازار کے نام سے موسوم۔دوسرا چھوٹا بازار۔مگر دونوں سنسان چھوٹے بازار میں تو شاذ ہی کوئی دکان کھلی اور آدمی نظر آتا۔سوائے دو منحوس اڈوں کے جو دن کے بجائے رات کو زیادہ کھلتے ہوں گے۔باقی بازار بند اور گرا پڑا تھا۔بڑے بازار میں چندو کا نہیں کھلی دکھائی دیا کرتی تھیں۔مگر کاروبار ان کا بھی دیکھنے میں کوئی نہ آتا۔خالی دکانوں پر نکھے بت بیٹھے ہوا کرتے یا دفع الوقتی کے لئے گھروں کی وحشت سے گھبرا کر بازار میں آجایا کرتے جہاں آنے جانے والوں کی شکل وصورت دیکھ لیتے یا پاسہ چوپٹ اور شطرنج وغیرہ کھیل کر دن گذار لیا کرتے۔یا بعض اس ٹی کی آر میں فلاکت زدہ کسانوں اور مزدوری پیشہ محتاجوں کا خون چوسنے اور پیٹ کاٹنے کی غرض سے سودی لین دین کر لیا کرتے۔بازار محض نام کو تھا، کام کوئی تھا نہ ہنر اور پیشہ۔تین دکاندار تھے جو اس ویران بستی کی زینت کہلاتے۔ایک بزاز دوسرا عطار تیسرا حلوائی۔ایک مسلمان اور دو ہندو اور ان تینوں کی آبادی بھی صرف اس ایک گھرانے کی بدولت تھی جس کو خدا نے پھر سے نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لئے چن لیا تھا۔عطار کا کام سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندانی کمال فن طب اور فیض کا رہین منت تھا یا حضرت نورالدین اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطب اور مریضوں کی وجہ سے اور حلوائی کا مہمانوں اور بیماروں کی آمد ورفت کے باعث اور لالہ سکھرام صاحب بزاز کی بکری بھی محض اسی گھرانے کے طفیل تھی جو عموماً یتامی و بیوگان اور غرباء کی ضروریات کے لئے خرید فرمایا کرتے مگر اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کوئی دکا نہیں تھیں۔حلوائی کی ایک دکان کی تفصیل لکھ دیتا ہوں۔اس سے دوسری دکانوں کا بھی قیاس کر لیں۔چار یا چھ آنے کا دودھ لے کر یہ لوگ صبح سے رات کے دس گیارہ بجے تک عموماً بیٹھا کرتے۔دودھ بکتا جتنا بکتا باقی سے کھویا تیار ہوتا کبھی دہی۔دہی نہ بکتا تو رات کو بھلے پکوڑیاں تیار ہوتیں۔گاہک کوئی