اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 115 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 115

۱۱۵ اسی غرض سے جلدی کی تھی کہ جمعہ کی نماز میں شریک ہو کر اس برکت سے حصہ پاسکوں گا۔مگر یکہ بان کی طمع نے مجھے نماز جمعہ میں شرکت کی برکت سے محروم رکھا۔کیونکہ وہ دراصل نہاری کے بجائے سواری کی تلاش میں تھا۔قصہ کو تاہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان پہنچا وہ زمانہ ۱۳۲۱ھ کا تھا۔میں نے قادیان کو جس حالت میں دیکھا وہ نظارہ اپنا چشم دید لکھنے کی کوشش کروں گا۔وماتو فيقى الا بالله عليه توكلت واليه انيب - قادیان پر پہلی نظر اس کے اردگرد کی فصیل اور اس کے اندر کی آبادی قادیان آتے ہوئے سڑک کے موڑ کے قریب پہنچ کر یکہ بان نے اشارہ سے بتایا کہ وہ ہے قادیان۔میری پہلی نظر مسجد اقصیٰ کے خوبصورت گنبدوں اور کونوں کے مناروں پر پڑی۔جن میں خدا جانے کیا تاثیر جذب اور کشش تھی کہ میرا دل ایک سکینت تسلی اور اطمینان سے بھر گیا۔اور ساری کوفت اور گھبراہٹ اور بے قراری جاتی رہی۔دل ایک تیز پرواز کی تمنا کرنے لگا کہ میسر آ جائے تو اڑ کر پہنچوں۔قادیان پہنچ کر بڑی لمبی چوڑی فصیل پر نظر پڑی وہ تو اس کے بھلے وقتوں کے عروج واقبال اور عظمت وشوکت کی خیالی تصویر آنکھوں میں پھر گئی۔کیونکہ آثار و علامات اس امر کی دلیل تھے کہ یہ مقام کبھی بھاری قلعہ اور مضبوط حصار ہوگا۔بعد میں رہتے رہتے جو اچھی طرح دیکھا تو یہ دیکھا کہ بستی ایک فصیل کے اندر محدود تھی۔جو جا بجاشکتہ وخستہ تھی۔چوڑائی اس کی تہیں بنتیں فٹ اور اونچائی بوجہ گر جانے کے پوری معلوم نہ ہوسکی۔جو دیکھی وہ بعض جگہ سے آٹھ دس فٹ ضروری تھی۔آثار اس فصیل کے سوائے شمال مغرب کونہ کے چاروں اطراف میں نمایاں تھے۔میں نے جو سرسری سا تخمینہ اس فصیل اور بستی کا کیا اس کے نتیجہ میں یہ لکھ سکتا ہوں کہ فصیل قریباً مستطیل شکل میں واقع تھی۔جس کا طول بیرونی حدود تک کم و بیش گیارہ سوا اور عرض نوسوفٹ تھا۔فصیل کے اندرونی جانب تخمیناً اٹھارہ بیس فٹ چوڑا ایک کو چہ گول سڑک کے طریق پر برابر چاروں طرف چھوڑا ہوا تھا۔جو آجکل دائیں بائیں کی دست برد کا شکار ہو کر آٹھ دس بارہ اور چودہ فٹ رہ گیا ہے بلکہ بعض حصوں میں تو بالکل غائب اور ختم ہو چکا ہے، اس گول سڑک کے اندر اندر ہی اس زمانہ میں آبادی تھی۔فصیل اور گول سڑک کو چھوڑ کر اصل زیر آبادی حصہ کی پیمائش تخمیناً ایک ہزار فٹ طویل اور آٹھ سوفٹ عریض تھی۔