اصحاب احمد (جلد 9) — Page 116
١١٦ فصیل کے چاروں کونوں پر چار برج اور چار ہی اس میں دروازے تھے یعنی پہاڑی دروازہ بٹالوی دروازه نگلی دروازہ اور موری دروازہ فصیل کے باہر بڑے بڑے اور پرانے بولوں کا گویا ایک گھنا جنگل کھڑا تھا۔جہاں دن دہاڑے خوف آتا۔رات کے اندھیرے میں تو کم ہی کوئی فصیل کے باہر نکلتا ہوگا۔اس خار مغیلاں کے جنگل کے بالکل ساتھ لگی ہوئی ایک کھائی یا خندق تھی۔جو چاروں طرف عموماً سال بھر پانی سے بھر پور رہتی۔کئی کئی میل دور سے برسات کا پانی اس نشیب میں آن جمع ہوا کرتا تھا اور گویا ایک قدرتی امداد اور غیبی تائید تھی اس قلعہ کی حفاظت کی جو اسے قدرت کی فیاضی سے مفت میں میسر تھی۔آبادی کی بیرونی فضاء قصبہ کی رونق، شادابی اور خوبصورتی کے لئے قصبہ سے باہر کئی باغات تھے جو چاروں طرف دور دور تک پھیلے ہوئے بہت بڑے رقبہ میں لگائے اور سجائے گئے تھے۔جن کے اثمار شیریں اور معطر ومصفا ہوا سے حاکم و محکوم برابر فائدہ اٹھایا کرتے۔اس مرکز کی حفاظت اور مضبوطی کے لئے چاروں اطراف وقتی ضروریات کے مدنظر مناسب مقامات پر دور ونزدیک ایک اور معاون و محافظ قلعوں کی لائن تھی جن میں سے بسرا۔کھارا ٹھیکر یوالا رسول وڈالہ کنڈیلا اور ڈھپئی کے قلعوں کے آثار تو آج تک بھی واضح اور عیاں موجود ہیں۔اور بعض زمانہ کی دست برد کی نذر ہو چکے ہیں اس قلعہ بندی اور حفاظت و تنظیم پر نظر غائر ڈالنے سے مرکز کی مضبوطی شان وشوکت اور زیر نگیں ریاست کی وسعت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔تصویر کا دوسرا رخ قادیان کا عالی ہمت خاندان اس عالی ہمت ، اولوالعزم اور اقبال مند خاندان کی حسن تدبیر ، انتظامی قابلیت ، قوت عمل اور علو ہمتی کو جانچا جاسکتا ہے۔جس نے ہزاروں میل سے آکر ان جنگلوں میں منگل کر دیا۔اور ایک مستقل ریاست الفضل خلافت جوبلی نمبر بابت ۸ / دسمبر ۱۹۳۹ء والحکم بابت ۱۴، ۲۱ جنوری ۱۹۴۰ء سے طبع دوم میں اضافہ یا بعض الفاظ کی تبدیلی کی گئی ہے۔